اندرا گاندھی کی پیشکش سے انکار ۔ پنڈت نہرو عرب ممالک کیلئے قاصد بنانا چاہتے تھے
حیدرآباد۔15جنوری(سیاست نیوز) پنڈت جواہر لعل نہرو کے دور حکمرانی کے دوران آصف جاہ ثامن نواب میر برکت علی خان مکرم جاہ بہادر نے کچھ وقت’تین مورتی بھون‘ میں بھی گذارے اور آنجہانی وزیر اعظم اپنے ساتھ رکھتے ہوئے مکرم جاہ بہادر کو خصوصی قاصد برائے عرب ممالک نامزد کرنے کا فیصلہ کرچکے تھے ۔ بتایاجاتا ہے کہ پنڈت نہرو کے دور حکومت میں انہیں وزیر اعظم ہند کے خصوصی قاصد برائے عرب و مسلم ممالک کا عہدہ دینے کے اقدامات کرلئے گئے تھے۔بعدازاں انہیں وزیر اعظم کے خصوصی قاصد کے طور پر عراق روانہ کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد انہوں نے وزیر اعظم کے خصوصی قاصد کی حیثیت سے کسی اور مسلم یا عرب ملک کا دورہ نہیں کیا ۔مکرم جاہ بہادر کو آنجہانی وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی جانب سے خصوصی قاصد برائے مسلم وعرب ممالک بنائے جانے کی کوشش کے بعد پنڈت نہرو کی دختر آنجہانی اندرا گاندھی نے اپنے دور حکومت میں نائب صدر جمہوریہ کے عہدہ کی بھی پیشکش کی تھی جس پر نواب میر برکت علی خان نے معذرت کے ساتھ انکار کردیا تھا۔نواب میر برکت علی خان بہادر کو حکومت ہند کی جانب سے ہندستانی فوج میں اعزازی لیفٹننٹ کے عہدہ سے بھی سرفراز کیا گیا تھا ‘ انہیں آنجہانی اندرا گاندھی کی حکومت میں نائب صدر جمہوریہ کے عہدہ کی پیشکش کے متعلق ان کے قریبی رفقاء و افراد خاندان نے اس بات کی توثیق کی کہ مسز گاندھی نے نواب میر برکت علی خان کو نائب صدر جمہوریہ کے عہدہ کی پیشکش کرتے ہوئے انہیں ہندستان میں ہی قیام کرنے کیلئے رضامند کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انہوں نے اس عہدہ کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ نواب میر برکت علی خان مکرم جاہ بہادر دنیا کے مختلف ممالک لندن‘ آسٹریلیاء اور ترکیہ میں قیام کے دوران بھی حیدرآباد سے اپنے تعلق کو برقرار رکھے ہوئے تھے اور جب تک وہ صحتمند رہے حیدرآباد میں مختصر قیام کے لئے سفر کرتے رہے اور انہوں نے حیدرآباد کے سفر کے دوران چیریان پیالس کے علاوہ فلک نما پیالس میں بھی متعدد مرتبہ قیام کیا اور بسا اوقات چومحلہ پیالس میں بھی قیام کو ترجیح دیا کرتے تھے۔م