پولیس ایکشن تلنگانہ کی تاریخ کا سیاہ باب، سیاست و ٹی سی ایچ آر کے سمینار سے کیپٹن ایل پانڈو رنگاریڈی و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 21 جنوری (سیاست نیوز) کیپٹن لنگالہ پانڈو رنگا ریڈی نے ریاست کی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کیلئے دائیں او ربائیںبازونظریات کے حامل مورخین کو ذمہ دار ٹہرایا او رکہاکہ آصف جاہی حکمرانوں کے متعلق غیرذمہ داری کے ساتھ تحریر کی گئی تاریخ کے سبب علاقے تلنگانہ میں آصف جاہی سلاطین کے تئیں بدگمانیاں پیدا ہوئی ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو تاریخ دائیں او ربائیں بازو نظریات کے حامل مورخین نے لکھی ہے اس میںسچائی بالکل نہیںہے ۔ مسخ شدہ تاریخ لکھنے کا مقصد ہی تلنگانہ میںفرقہ واریت کو فروغ دینا تھا جس میں مورخین بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ ادارہ سیاست اور تلنگانہ کونسل برائے تاریخی تحقیق( ٹی سی ایچ آر) کے دوروزہ سمینار برائے ’’ آصف جاہوں کی ایک تشخیص‘‘ کے اختتامی اجلاس سے کیپٹن لنگالہ پانڈو رنگا ریڈی نے خطاب کرتے ہوئے آصف جاہی حکمرانوں کی ستائش کی او رکہاکہ جاگیردارانہ نظام ہونے کے باوجود جمہوری طرز کی حکمرانی کو انجام دینے کا سہرا آصف جاہی حکمرانوں کے سر جاتا ہے ۔انہوں نے آصف جاہی سلاطین بالخصوص آصف جاہ صابع نواب عثمان علی خان بہادر کی رعایا پروری کو ناقابل فراموش قراردیا ۔ انہوں نے کہاکہ پولیس ایکشن تلنگانہ کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے ۔ اپنے استفسار میں پانڈو رنگا ریڈی نے جئے پور‘ جونا گڑھ‘ میسور اور ایسی بہت ساری ریاستوں کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ان مقاما ت پر نہ تو کوئی پولیس ایکشن ہوا اور نہ ہی کوئی ملٹری کاروائی عمل میں آئی مگر ریاست حیدرآباد کو نشانہ بنانے کی ضرورت کیاتھی۔انہو ںنے کہاکہ ریاست حیدرآباد کی ترقی آج بھی آصف جاہ صابع کی مرہون منت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پراگندہ ذہنیت کے ساتھ تاریخ تحریر کرنے والے مورخین نے کبھی بھی اپنی کتابوں میںسوریا طیب جی جیسی ممتاز ہستیوں کا حوالہ نہیں دیاہے۔انہوں نے کہاکہ منظم انداز میں ریاست حیدرآباد کے حکمران طبقے کو بدنام کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نئے ریسرچ اسکالرس کو چاہئے کہ وہ حقائق سے آگاہی حاصل کریںاور اپنی تحقیق کے ذریعہ جو بدگمانیاں اورغلط فہمیاں پیدا کی گئی ہیں اس کو دور کریں۔ جنرل سکریٹری ٹی سی ایچ آر ٹی ویویک نے کہاکہ 17ستمبر کو لبریشن ڈے کے طو ر پر منانے کا زوردینے والے اس بات کی وضاحت کریں کہ لبریشن ڈے کیوں منایاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ شخصی طور پر آصف جاہ صابع نے ریاست دکن جب انڈین یونین میںضم کردی ہے تو پھر لبریشن ڈے منانے کا کیامطلب ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ نئے ریسرچ اسکالرس پر اس بات کی بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ نئی تحقیق اور نئے انداز میں دستاویزات کی جانچ کرتے ہوئے لبریشن ڈے کے نام پر پیداکئے جانے والے وبال کی نفی کریں اورنئی تحقیق کے ذریعہ ریاست حیدرآباد او رتلنگانہ کی نئی تاریخ رقم کریں جو حقائق پر مبنی ہو ۔ انہوں نے کہاکہ ٹی سی ایچ آر او رسیاست کے اس دو روزہ سمینار میں ایسی ہی بدگمانیوں کو دور کرنے کیلئے ریسرچ اسکالرس‘ ایچ او ڈی محکمہ تاریخ اور سماجی جہدکاروں نے اپنے مقالے جات پیش کئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ٹی سی ایچ آر کی یہی کوشش ہے کہ ہم اس طرح کے سمیناروں کے ذریعہ تاریخی حقائق کو منظرعام پر لائیں اور ہمارے اس کام میںادارہ سیاست کا گرانقدر تعاون نے ہماری اس کوشش میںشدت پیدا کی ہے ۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کی بھی سمینار کی خبروں کی اشاعت پر شکریہ ادا کیا ۔ اس موقع پر ایم ویداکما ر چیر مین فورم فار بیٹر حیدرآباد‘ انورادھا ریڈی کنونیر انٹیک حیدرآباد چیاپٹر کے علاوہ کرشنا رائوسابق پولیس آفیسر کوبھی ٹی سی ایچ آر او رادارہ سیاست کی جانب سے تہنیت اور مومنٹو پیش کرتے ہوئے ان کے خدمات کی ستائش کی۔ اختتامی دن سمینار میںمقالے پیش کرنے والوں میںپروفیسر شجاع الدین عزیز تلنگانہ مہیلا یونیورسٹی‘ پروفیسر سدھا رانی ڈاکٹر بی آر امبیڈ کر اوپن یونیورسٹی‘ ڈاکٹر زرینہ پروین ڈائرکٹر اسٹیٹ آرکائیز‘ پروفیسر ایم رمیش‘ این گوپال اور دیگر ایم اے ہسٹری کے طالبات کے نام قابل ذکر ہیں۔ قومی ترانہ پرسمینار کااختتام عمل میںآیاہے۔
کوٹک جٹ کارگو ایرلائنس کا حیدرآباد سے آغاز
شمس آباد ۔ 21 جنوری (سیاست نیوز) کوٹک جٹ کارگو ایرلائنس نے شمس آباد ایرپورٹ سے دہلی اور بنگلورو پروازوں کا آغاز کیا ہے۔ پردیپ چیف ایگزیکیٹیو آفیسر GHIAL نے بتایا کہ ہم نے کارگو ایرلائنس کا آغاز کیا۔