آن لائن بٹنگ ایپس کیخلاف سخت کارروائی کرنے چیف منسٹر ریونت ریڈی کا اعلان

,

   

خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل، اپوزیشن ترقی میں رکاوٹ ، ریاست میں لاء اینڈ آرڈر صورتحال بہتر،عوام نے اپوزیشن کو پہلے ہی سزا دے دی

حیدرآباد۔/26 مارچ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آن لائن بٹنگ ایپس، آن لائن رمی اور اسی طرح کے دیگر ڈیجیٹل بٹنگ گیمس کی دھوکہ دہی کو روکنے کیلئے سخت کارروائی کا اعلان کیا۔ تلنگانہ اسمبلی میں اس سلسلہ میں بیان دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی ایجنسیوں کے ذریعہ تحقیقات کے تحت آن لائن بٹنگ اور دیگر دھوکہ دہی کے ایپس کا مستقل طور پر حل تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ریاستوں اور پڑوسی ممالک کو بھی اس سلسلہ میں سنجیدگی سے تحقیقات کرنی چاہیئے تاکہ عوام کو دھوکہ دہی سے بچایا جاسکے۔ تلنگانہ حکومت نے آن لائن بٹنگ کی لعنت پر قابو پانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کرنے خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ایسے تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو راست یا بالواسطہ طور پر آن لائن بٹنگ کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بٹنگ ایپس چلانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کیلئے ضرورت پڑنے پر قانون میں ترمیم کی جائے گی۔ ریونت ریڈی نے واضح کیا کہ تلنگانہ کو بٹنگ کی لعنت سے پاک بنایا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بعض سیاسی پارٹیاں الزام عائد کررہی ہیں کہ ریاست میں امن و ضبط کی صورتحال بہتر نہیں ہے۔ ریاستی پولیس مکمل طور پر چوکس ہے اور کسی معمولی واقعہ کی بھی اطلاع ملنے پر فوری کارروائی کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سابق حکومت کے دور میں جب ایک وکیل جوڑے کا دن دہاڑے قتل کردیا گیا تو اس وقت کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ عوام ویٹرنری ڈاکٹر کی عصمت ریزی کے واقعہ کو بھولے نہیں ہیں۔ 2020 میں تلنگانہ عصمت ریزی کے معاملہ میں ملک میں چوتھے مقام پر تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں متاثرین کے ساتھ ہمدرد اور مجرمین کے ساتھ سخت ہونا چاہیئے۔ اپوزیشن الزامات کے ذریعہ حکومت کے امیج کو متاثر کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و ضبط کی صورتحال پر تنقیدوں کے ذریعہ اپوزیشن ریاست میں سرمایہ کاری میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسیڈ حملے دراصل ریاست کی ترقی میں رکاوٹ ہیں اور یہ تلنگانہ کے امیج کو متاثر کرنے کی سازش ہے۔ تلنگانہ سماج ان سازشوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اپوزیشن کا رویہ کچھ اس طرح ہے جیسے وہ اقتدار کے بغیر ایک لمحہ بھی نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 15 ماہ کے دوران ریاست میں امن و ضبط کی صورتحال پوری طرح قابو میں ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ سینئر کانگریس لیڈر جانا ریڈی کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر رول ماڈل بنائیں جنہوں نے حکومت کو ہمیشہ تجاویز پیش کی تھیں۔ الیکشن 2028 میں آئے گا اور اپوزیشن کی عاجلانہ انتخابات کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس قائدین کا داخلی ٹکراؤ ریاستی حکومت کیلئے درد سر بن چکا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ تمام اسمبلی حلقہ جات کے مسائل حل کرنے کیلئے تیار ہیں اگر گجویل کے رکن اسمبلی ان سے رجوع ہوں تو ان کے مسائل حل کروں گا۔ بی آر ایس لیڈر اور رکن اسمبلی ٹی پدما راؤ گوڑ نے حال ہی میں مجھ سے ملاقات کی اور حلقہ کے مسائل سے واقف کرایا، میں نے عہدیداروں کو فوری یکسوئی کی ہدایت دی۔ اپوزیشن کو حکومت پر تنقید سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ چیف منسٹر نے کسی انفرادی شخص یا حلقہ کے ساتھ امتیازی سلوک کی تردید کی۔ چیف منسٹر نے بی آر ایس رکن ہریش راؤ سے راست سوال کیا کہ ریجنل رنگ روڈ تعمیر کی جائے یا نہیں۔ ریڈئیل روڈس تعمیر کئے جائیں یا نہیں، کیا ترقی کیلئے اراضی حاصل کی جائے یا نہیں، فیوچر سٹی قائم کی جائے یا نہیں؟ چیف منسٹر نے کہا کہ اسمبلی میں مائیک کے استعمال کے ذریعہ اپوزیشن کی سازشوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ ترقی کیلئے اراضی کے حصول میں رکاوٹ پیدا کرنے سے گریز کریں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اپوزیشن نے بعض قائدین کو ملنا ساگر اور پالمور رنگاریڈی پراجکٹ کے خلاف مقدمات درج کرنے کی حوصلہ افزائی کی تھی اور وہی قائدین بعد میں اسی پارٹی میں شامل ہوئے۔ چیف منسٹر نے اپوزیشن سے کہا کہ مجھے آپ سے کوئی نفرت نہیں ہے کیونکہ عوام نے آپ کو پہلے ہی سزا دے دی ہے ، اب مجھے آپ پر ناراض ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔1