اپوزیشن کی سرگرمیوں پر تحدیدات سے متعلق جی او واپس لینے تک جدوجہد کا اعلان
حیدرآباد۔/8 جنوری، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش کی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کے تحت جنا سینا کے سربراہ پون کلیان نے آج حیدرآباد میں صدر تلگودیشم این چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات کی۔ چندرا بابو نائیڈوکی قیامگاہ پر دونوں قائدین کی ملاقات تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی جس میں آندھراپردیش کی تازہ ترین سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں قائدین نے جگن موہن ریڈی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف متحدہ جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے۔ ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے دونوں قائدین نے اپوزیشن جماعتوں کی سرگرمیوں کو کچلنے کیلئے حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں پر برہمی کا اظہار کیا اور عوامی جلسوں اور ریالیوں پر تحدیدات سے متعلق جی او نمبر 1 سے دستبرداری کی مانگ کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سیاہ جی او سے دستبرداری تک جدوجہد جاری رہے گی۔ پون کلیان نے کہا کہ وہ کپم دورہ کے موقع پر چندرا بابونائیڈو کے ساتھ پیش آئے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور اظہار یگانگت کیلئے پہنچے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جگن حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے علاوہ فیس ری ایمبرسمنٹ، پنشن جیسی اسکیمات پر عمل آوری میں رکاوٹ اور امن و ضبط کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے درمیان پہنچنے سے اپوزیشن کو روکنے کیلئے جی او نمبر1 جاری کیا گیا ہے۔ حکومت نہیں چاہتی کہ اپوزیشن قائدین عوام کے درمیان پہنچیں۔ر
انہوں نے کہا کہ پولیس کے ذریعہ اپوزیشن کے جلسوں کو ناکام بنانے کی سازش کی جارہی ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ جگن موہن ریڈی حکومت کے خلاف مشترکہ جدوجہد کیلئے بات چیت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات اور انتخابی مفاہمت پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو مقامات پر بھگدڑ کے واقعات کا بہانہ بناکر حکومت نے اپوزیشن کی ریالیوں اور جلسوں پر تحدیدات عائد کی ہیں۔ر