آنکھوں میں ٹی بی کے جراثیم کی موجودگی کی توثیقعالمی یوم ٹی بی ، مذاکرہ سے ڈاکٹر سومیا

   

حیدرآباد۔22۔مارچ(سیاست نیوز) ٹی بی محض پھیپڑو ں کی بیماری نہیں ہے بلکہ یہ بیماری جسم کے کسی بھی حصہ تک رسائی حاصل کرسکتی ہے اور اس بیماری کا علاج ممکن ہے اگر بروقت اس کا آغاز کیا جائے ۔ عالمی یوم ٹی بی کے موقع پر ایل وی پرساد آئی انسٹیٹیوٹ میں آنکھوں کے ٹی بی کے متعلق مذاکرہ کا انعقاد عمل میں لایا گیا جس میں ڈاکٹرس نے آنکھوں میں ٹی بی کے جراثیم کی رسائی پر تبادلہ خیال کے دوران کہا کہ 24مارچ1882 کو ٹی بی کی دریافت کے بعد اندرون دو سال آنکھوں میں ٹی بی کے جراثیم پائے جانے کی توثیق ہوئی تھے اور 1884 میں ڈاکٹر رابرٹ کوچ نے اس بات کی توثیق کی تھی۔ ڈاکٹر سومیاوا ماہر امراض چشم جو ایل وی پرساد آئی انسٹیٹیوٹ کے ساتھ خدمات انجام دے رہی ہیں نے عالمی یوم ٹی بی کے موقع پر منعقدہ اس مذاکرہ کے دوران کہا کہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ عوام ہی نہیں بلکہ کئی ڈاکٹرس بھی اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ آنکھوں میں ٹی بی کس طرح سے ہوسکتا ہے جبکہ ٹی بی کے متعلق ہونے والی تحقیق کے دوران اس بات کی توثیق ہوچکی ہے کہ انسانی جسم میں ٹی بی کسی بھی حصہ میں ہوسکتا ہے اور مختلف ماہرین امراض نے اس بات کی توثیق کی ہے۔ ماہرین امراض جلد نے انسانی جلد میں ٹی بی کی نشاندہی بھی کی ہے کیونکہ ٹی بی کے جراثیم ابتداء میں پھیپڑوں پر اثر انداز ہوتے ہیں جبکہ بعد میں وہ انسان کے جسم کے کسی بھی اعضاء کو متاثر کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر سومیاوا نے بتایا کہ آنکھوں کا ٹی بی کوئی نئی بیماری نہیں ہے بلکہ یہ ایک قابل علاج بیماری ہے جس کی تشخیص کی جانا اہم ہے اسی لئے آنکھوں سے متعلق ہونے والے امراض کو نظرانداز نہیںکیا جانا چاہئے بلکہ ان کی مناسب تشخیص و تحقیق کے ذریعہ وجوہات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔آنکھوں کے مختلف امراض میں ٹی بی بھی شامل ہے اور اس کی بروقت نشاندہی کے ذریعہ آنکھوں کا مؤثر علاج کرتے ہوئے آنکھ کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکتا ہے ۔م