’’آپ اکیلے نہیں‘‘ یورپ کا یوکرین کو پیغام

   

برسلز: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات تلخ کلامی میں بدلنے کے بعد یورپی دارلحکومتوں کے مقابلے میں امریکی موقف زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے۔ یورپی ممالک اس بات کے خواہش مند ہیں کہ جنگ کے تصفیے سے متعلق معاہدے میں یوکرین کی سلامتی کو بھی کسی ایسے معاہدے کا حصہ بنایا جائے۔ عوامی سطح پر پیدا ہونے والا یہ بحران اب نیٹو میں شامل یورپی مْمالک اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والے کشیدہ حالات کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔ یوکرین سے باہر یورپی سلامتی کے لئے امریکی عزم کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات اور سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا صدر ٹرمپ اپنے پیشرو ہیری ٹرومین کا 1949 میں کیا گیا وعدہ پورا کریں گے کہ نیٹو اتحادی پر حملے کو امریکہ پر حملہ سمجھا جائے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کو سکیورٹی کی ضمانت دینا امریکہ کی نہیں یورپ کی ذمہ داری ہے، چاہتے ہیں امریکہ یوکرین کی مدد بند نہ کرے۔ ادھر یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کلاس نے کہا کہ ہم یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔