مرکز اور ریاست کسانوں کے تحفظ میں ناکام، زرعی بلز کی واپسی کسانوں کی کامیابی
حیدرآباد۔/21 نومبر، ( سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ دھان کی خریدی میں تاخیر کے ذریعہ کسانوں کیلئے مشکلات میں اضافہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے کسانوں سے دھان کی خریدی کے مسئلہ پر مرکز اور ریاست کا موقف غیر واضح ہے جس کا نقصان کسانوں کو ہوگا۔ اتم کمار ریڈی نے سوریا پیٹ میں پرائمری اگریکلچر کوآپریٹیو سوسائٹی اور اندرا کرانتی پتھم کے دھان کے خریدی مراکز کا دورہ کیا اور کسانوں سے ملاقات کی۔ کسانوں نے دھان کی خریدی میں تاخیر سے دھان کے خراب ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا اور کہا کہ حکومت اقل ترین امدادی قیمت کی ادائیگی میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اتم کمار ریڈی نے نریندر مودی اور چندر شیکھر راؤ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ فی کنٹل 1960 روپئے امدادی قیمت کی ادائیگی میں دونوں حکومتیں ناکام ہوچکی ہیں۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے ذریعہ کسانوں کا نقصان کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رائس ملرس کو فائدہ پہنچانے کیلئے خریدی میں تاخیر ہورہی ہے تاکہ کسان کم قیمت پر فروخت کرنے کیلئے تیار ہوجائیں۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ مرکزی اور ریاست ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے دھان کی خریدی پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ابھی خریف فصل کی دھان کی خریدی کرنی ہے لیکن چیف منسٹر ابھی سے ربیع کی بات کررہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چیف منسٹر کو موجودہ فصل کی خریدی میں دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے زرعی قوانین سے دستبرداری دراصل کسانوں کی اہم کامیابی ہے جنہوں نے غیر معمولی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرکز کو اپنا فیصلہ واپس لینے کیلئے مجبور کردیا۔ر