احتجاج کو کچلنے کی حکمت عملی

   

امیر شہر کی مدحت نہ لکھی جائے گی ہم سے
کہ جو خوددار ہیں وہ کار درباری نہیں کرتے
مرکزی حکومت ایسا لگتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج سے خوف میں آگئی ہے اور اسی خوف کی وجہ سے اس طرح کے اقدامات کر رہی ہے جن کے ذریعہ اس کا خوف مزید آشکار ہونے لگا ہے ۔ جس طرح سے جنتر منتر کے اطراف پابندیاں عائد کردی گئی تھیں ‘ ہزاروں رکاوٹیں کھڑی کردی گئی تھیں اور احتجاجیوں کو حراست میں لیا گیا اور انہیں دوڑا دوڑا کر مارپیٹ کی گئی ‘ کئی کئی گھنٹوں تک دہلی کی سڑکوں پر گھمایا گیا اس سے حکومت کے خوف کا ہی پتہ چلتا ہے ۔ دہلی کا جنتر منتر ایک طویل عرصہ سے مقررہ احتجاجی مقام رہا ہے اور وہاں ملک کی کئی سیاسی جماعتوں نے احتجاج کیا تھا ۔ اسی جنترمنتر پر احتجاج کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی نے ہندوستان میں ایک نئی لہر پیدا کی تھی اور اسی احتجاج کے نتیجہ میں مرکزی وزارت سے دھرمیندر پردھان کو استعفی پیش کرنا پڑا تھا ۔ اب چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف بھی اسی مقام پرا حتجاج کا اعلان کیا گیا تھا ۔ سی جے پی ‘ دوسری طلباء تنظیموں‘ آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن ‘ سیول سوسائیٹی تنظیموں اور وکلاء وغیرہ کی جانب سے اسی مقام پر احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا ۔ مرکزی حکومت نے دہلی پولیس کو استعمال کرتے ہوئے اس احتجاج کو کچلنے کیلئے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا اور ہزاروں افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا ۔ حالانکہ ان تمام کی بعد میں رہائی عمل میں لائی گئی لیکن اس طرح کے اقدامات سے مرکزی حکومت کے خوف کا پتہ ضرور چل گیا تھا ۔ اب دہلی پولیس کی جانب سے جنتر منتر کو احتجاج سے پاک علاقہ قرار دیدیا گیا ہے ۔ دہلی پولیس کی جانب سے جنترمنتر کو احتجاج کے مقام کی حیثیت سے ڈی نوٹیفائی کرتے ہوئے تین دوسرے مقامات کو احتجاج کیلئے مختص کیا ہے ۔ یہ مقامات رام لیلا گراونڈ ‘ براری گراونڈ اور سی بی ڈی گراونڈ ہیں جو دہلی کے مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مرکزی حکومت کیلئے جنتر منتر کا نام ہی اب ڈر اور خوف کا باعث بن گیا ہے کیونکہ اسی مقام پر احتجاج سے ایک وزیر کو مستعفی ہونا پڑا تھا ۔
یہ ضرور ہے کہ مرکزی حکومت یا دہلی پولیس کو یہ اختیار ہے کہ وہ کسی مقام کو احتجاج سے پاک قرار دے اور کسی اور مقام کو احتجاج کیلئے مقررہ جگہ قرار دے ۔ انتظامی اعتبار سے ایسا کیا جاسکتا ہے تاہم اس بار جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ مرکزی حکومت کے خوف کا نتیجہ ہی کہا جاسکتا ہے ۔ اچانک سے اس طرح کا فیصلہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا سوائے اسکے کہ حکومت چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف شروع ہوئے احتجاج کو کچلنا چاہتی ہے اور اس احتجاج کو ختم کرنا چاہتی ہے ۔ حکومت نہیںچاہتی کہ ملک کے عوام کو پرامن احتجاج کرنے کا جو دستوری حق حاصل ہے اس کا استعمال کیا جائے ۔ جس طرح سے الیکشن کمیشن کی جانب سے شروع کردہ ایس آئی آر کے دریعہ ملک کے 13 کروڑ افراد کو رائے دہی کے حق سے محروم کرنے کے اقدامات کئے گئے ہیں اسی طرح سے اب ملک کے عوام کو جمہوری انداز میں احتجاج کرنے کے دستوری حق سے محروم کرنے کی حکمت عملی پر بھی عمل کیا جا رہا ہے ۔ ووٹ چوری کا مسئلہ جس طرح سے سارے ملک میں توجہ حاصل کرچکا ہے اور سماج کے کئی طبقات احتجاج کا راستہ اختیار کر رہے ہیں اس سے حکومت کی نیندیں اڑ گئی ہیں اور وہ کئی طرح کے اندیشوں میں مبتلاء دکھائی دے رہی ہے ۔ یہ حکومت کے اندیشے ہی ہیں جن کی بنیاد پر دہلی پولیس کو استعمال کرتے ہوئے احتجاجیوں پر مظالم ڈھائے گئے اور اب انتظامی فیصلے کے ذریعہ احتجاج کے مقام کو ہی بدل دیا گیا ہے ۔
مرکزی حکومت ہو یا پھر دہلی پولیس ہو دونوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ محض جگہ کی تبدیلی سے احتجاج کو نہ تو ختم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کمزور کیا جاسکتا ہے ۔ طلباء ‘ نوجوان ‘ جہد کار ‘ وکلاء ‘ سیول سوسائیٹی تنظیمیں جس طرح سے احتجاج پر اتر آئی ہیں اس سے حکومت کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اب اس آواز کو دبایا نہیں جاسکتا ۔ مقام کو بھلے ہی تبدیل کردیا جائے لیکن آواز کودبایا نہیں جاسکتا اور نہ ہی عزائم اور حوصلے پست کئے جاسکتے ہیں۔ احتجاج پوری شدت سے کیا جا رہا ہے اور یہ اپنے مقصد کی تکمیل تک چلتا رہے گا ۔