ادئے پور میں ٹیلر کا قتل کرنے والوں کا بی جے پی سے تعلق‘ کانگریس کا دعوی

,

   

سنسنی خیز معاملہ کا نیا موڑ ، بطور ثبوت کئی تصاویر سوشیل میڈیا پر پوسٹ کئے گئے ۔ بی جے پی نے الزامات مسترد کردئے
حیدرآباد ۔ 2 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : ادئے پور میں ٹیلر کنہیا لعل کے قتل کا نیا موڑ سامنا آیا ہے ۔ مبینہ دونوں قاتلوں میں ایک کا بی جے پی سے تعلق بتایا گیا ہے ۔ کانگریس پارٹی کے قائدین نے قاتل کے بی جے پی قائدین کے ساتھ موجود تصاویر کو سوشیل میڈیا میں شیئر کرتے ہوئے بی جے پی پر سوالات کی بوچھار کردی ہے ۔ تلنگانہ کانگریس امور کے انچارج مانکیم ٹیگور نے قاتل کے ساتھ بی جے پی قائدین کی تصاویر کو ٹوئیٹر پر شیئر کرتے ہوئے بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کو ٹیاگ کرتے ہوئے ان سے سوال کیا اس مسئلہ پر بی جے پی حیدرآباد میں منعقدہ قومی اجلاس میں غور کرنے کی ہمت رکھتی ہے ۔ یا اسے محفوظ راستہ فراہم کردیا جائے گا ۔ یہ مسئلہ میڈیا ، سوشیل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن گیا ہے اور بی جے پی قائدین کے ساتھ قاتل کی تصویر سوشیل میڈیا میں تیزی سے وائرل ہورہی ہے ۔ واضح رہے کہ ادئے پور میں نپور شرما کی تائید و حمایت کرنے پر ٹیلر کنہیا لال کا قتل کیا گیا جو قابل مذمت اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ اس سلسلے میں بی جے پی اور سنگھ پریوار کی دیگر تنظیموں نے زبردست احتجاج کیا اور کیس کی تحقیقات این آئی اے کے حوالے کردی گئی ۔ بی جے پی اور دوسری ہندوتوا تنظیموں کے قائدین نے اس کو اسلامی دہشت گردی وغیرہ کے نام دے دئیے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ این آئی اے نے بھی قاتلوں کے تعلقات پاکستان کے دہشت گرد تنظیموں سے جوڑ دئیے ۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ و تلنگانہ کانگریس کے انچارج مانکیم ٹیگور نے ایک ٹوئیٹ کرتے ہوئے دونوں قاتلوں میں ایک قاتل ریاض اختر کی بی جے پی قائدین کے ساتھ تصاویر کو سوشیل میڈیا میں شیئر کردیا ۔ انہوں نے بی جے پی کو بے شرم پارٹی قرار دیتے ہوئے ان تصاویر پر بی جے پی کے قومی اجلاس میں غور کرنے کا مشورہ دیا ۔ مانکیم ٹیگور نے کہا کہ تصویر میں راجستھان بی جے پی کے رکن اسمبلی و قائد اپوزیشن گلاب سنگھ کٹیاریہ بھی موجود تھے ۔ انہوں نے جے پی نڈا کو مخاطب کرتے ہوئے ٹوئیٹ کیا کہ دہشت گردانہ واقعہ کے ملزم کے ساتھ بی جے پی قائدین کی تصاویر دیکھیں کانگریس کے سینئیر قائد پون کھیرا نے کہا کہ کنہیالعل کا قاتل ریاض عطاری بی جے پی کا رکن ہے ۔ اب بی جے پی ساری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگئی ہے ۔ پون کھیرا نے اس سلسلہ میں 30 نومبر 2018 ، 3 فروری 2019 ، 27 اکٹوبر 2019 ، 10 اگست 2021 ، 28 نومبر 2019 اور دیگر تاریخوں میں کئے گئے فیس بک پوسٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان پوسٹوں سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ عطاری نہ صرف بی جے پی قائدین سے قربت رکھتا ہے ۔ بلکہ بی جے پی کا ایک سرگرم رکن ہے ۔ پون کھیرا نے الزام عائد کیا کہ قاتل کا بی جے پی سے تعلق ہے جس کی وجہ سے مرکزی حکومت نے فوری ردعمل کا اظہار کیا ۔ اور اس کیس کی حقائق پر پردہ ڈالنے کے لیے اس کی این آئی اے سے تحقیقات کی جارہی ہے ۔ دوسری جانب کانگریس قائدین کے الزامات کی بی جے پی نے مذمت کی ہے ۔ بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالوایا نے کنہیا لعل کا قاتل بی جے پی کارکن ہونے کی تردید کی اور کانگریس پر جھوٹی تشہیر کرنے کا الزام عائد کیا ۔۔ ن

کانگریس کی ادے پور ملزمین کے ساتھ بی جے پی لیڈروں کے تعلق پر وضاحت طلبی
نئی دہلی ۔ کانگریس نے کہا ہے کہ ادے پور کے بے رحمانہ قتل کیس میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دو لیڈروں کے روابط کا انکشاف ہوا ہے ، اس لیے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو وضاحت کرنی چاہیے ۔ کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے ہفتہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک کل پریس کانفرنس میں کہا کہ ادے پور میں پیش آئے ہولناک واقعہ کے تناظر میں ایک میڈیا گروپ نے انتہائی سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ کنہیا لال کے قتل کا اہم ملزم ریاض عطاری کے تعلقات بی جے پی لیڈر ارشاد چین والا اور اور محمد طاہر سے ہیں اور ان کے تعلقات کی تصویریں جگ ظاہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس انکشاف میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ریاض عطاری اکثر راجستھان بی جے پی کے بڑے لیڈر اور ریاست کے سابق وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریہ کے پروگراموں میں شرکت کرتا رہا ہے ۔ ریاض کی راجستھان بی جے پی اقلیتی یونٹ کے اجلاس میں شرکت کی تصاویر بھی منظر عام پر آئی ہیں۔ ترجمان نے سوال کیا کہ کیا بی جے پی اپنے ترجمانوں اور لیڈروں کے ذریعے پورے ملک میں مذہبی جنون پھیلانے کی کوشش کرکے پورے ملک میں آگ لگا کر سیاسی پولرائزیشن کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ان کا یہ بھی سوال ہے کہ کیا وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ ان پارٹی لیڈروں کے جنون پھیلانے کی کوششوں پر خاموش رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈر ارشاد چین والا کی 30 نومبر 2018 اور محمد طاہر کی 3 فروری، 27 اکتوبر اور 28 نومبر 2019 اور 10 اگست 2021 کو فیس بک پر پوسٹس سے واضح ہوتا ہے کہ کنہیا لال قتل کا ملزم ریاض نہ صرف بی جے پی لیڈروں کا قریبی تھا۔ بلکہ وہ بی جے پی کا سرگرم رکن بھی تھا۔