اردو شاعری کے خدائے سخن میر تقی میر کا تین سو سالہ جشن

   

نئی دہلی: انجمن ترقی اردو (ہند) کے زیراہتمام خداے سخن میر تقی میر کی تیسری صدی تقریبات کایہاں شاندارانعقاد عمل میں آیا۔میرکی خود نوشت سوانح عمری ذکرِ میر کے مکمل متن کے اردو ترجمے کی پہلی اشاعت کی رونمائی اس جشن کا سب سے روشن پہلو تھا۔ میر نے اپنی خود نوشت سوانح عمری ذکرِ میر کے عنوان سے فارسی میں لکھی تھی۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ فارسی میں بھی یہ مکمل متن آج تک شائع نہیں ہوا ۔ اردو میں یہ ترجمہ ڈاکٹر صدف فاطمہ نے کیا ہے جنھوں حال ہی میں جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے ۔بریدہ شکل میں ذکرِ میر پہلی مرتبہ 1928 میں فارسی میں اس طرح شائع ہوئی تھی کہ اس کا آخری حصہ حذف کر دیا گیا تھا اور وہی ایڈیشن نہ صرف فارسی میں مروّج ہوابلکہ اردو ترجمے میں بھی اسی فارسی متن کو پیشِ نظر رکھا گیا جس کی وجہ سے اردو میں بھی ذکرِ میر کبھی اس شکل میں شائع ہی نہیں ہوئی جس شکل میں میر نے اسے تحریر کیا تھا۔ اس پروگرام میں وِپن گرگ کے دیوانِ میر کا افتتاح بھی عمل میں آیا ، جو انھوں نے ناگری رسم الخط مرتب کیا ہے بلکہ اس کے مشکل الفاظ کے معنی اس طرح حواشی میں دیے ہیں کہ قاری کی میر کے استعاروں تک رسائی ہوسکے ۔ اس کام میں وِپن گرگ نے مکمل یکسوئی کے ساتھ دس برس صرف کیے ۔ اس دیوان کی اشاعت راج کمل پرکاشن نے کی ہے ۔ راج کمل پرکاشن کے منیجنگ ڈائرکٹر اشوک مہیشوری کا بھی انجمن ترقی اردو (ہند) کی طرف سے استقبال کیا گیا۔اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے عہدِ وسطیٰ کے مشہور مورّخ محمود فاروقی نے کہاکہ ذکرِ میر کے مکمل متن کی اشاعت ہندستان کی ادبی تاریخ کا اہم واقعہ ہے ۔ انھوں نے اس بات کا بھی خصوصی طور پر ذکر کیا کہ انجمن ترقی اردو (ہند) وہ واحد ادارہ ہے جو اردو دنیا کے باہر بھی اردو کے ادب کے روشنی پھیلا رہا ہے۔
میر اور عہدِ میر پر اپنی عالمانہ تقریر میں محمود فاروقی نے 18 ویں اور 19 ویں صدی میں دہلی اور لکھنو[؟][؟] کی اس تہذیبی زندگی کا جائزہ لیا جسے اس دور کے سیاسی حالات نے متزلزل کیے رکھا اور میر تقی میر کی شاعری اسی دور کا پُر آشوب عکس ہے ۔ خیال رہے کہ محمود فاروقی نے کیمرج یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے اور دہلی کی تاریخ ان کا اختصاص ہے ۔ انڈیا ہیبی ٹیٹ سنٹرمیں منعقد اردو کے اس عظیم شاعر کی تیسری صدی تقریبات کے موقع پر ناظرین کا جم غفیرتھا۔ اس تقریب کا ایک مخصوص پہلو محمود فاروقی کی مسحور کن داستان سرائی بھی تھی۔ محمود فاروقی نے داستان کی مکمل طور پر ختم ہوچکی روایت کا نہ صرف احیائکیا بلکہ اس داستان کو ایک مرتبہ پھر اسے بامِ عروج تک اس احتشام کے ساتھ پہنچایا کہ دوسری زبان والے رشک کرتے ہیں۔ محمود کی داستان گوئی کے ذریعے بھی اردو کی غیر روایتی حلقوں میں خوب پذیرائی ہو رہی ہے ۔ میر کی تیسری صدی کی نسبت سے محمود فاروقی نے خصوصی داستان تیار کی ہے ، جسے اس موقع پر انھوں نے دارین شاہدی کے ساتھ پیش کیا۔