اردو میڈیم کی جائیدادوں کو ڈی ریزور کرنے پر حکومت غور کریگی

   

پرانے شہرکو ترقی دینے کیلئے خصوصی منصوبہ تیار، اسمبلی میں ڈی سریدھر بابو کی وضاحت

حیدرآباد ۔ 25 ۔ مارچ (سیاست نیوز) ریاستی وزیر امور مقننہ ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ کانگریس حکومت کو پرانے شہر سے محبت ہے اور ہم پرانے شہر کے عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہیں کیونکہ اولڈ سٹی ہی اوریجنل سٹی ہے ۔ مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی کے پرانے شہر کو نظر انداز کرنے کا حکومت پر الزام عائد کرنے پر ڈی سریدھر بابو نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں پرانے شہر کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ، اس لئے اکبر الدین اویسی برہم ہیں، ہم آپ کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔ ا کبر ا لدین اویسی نے کہا کہ یہ غصہ نہیں ہے ، تڑپ ہے۔ غریب بچوں کی تعلیم کی فکر ہے ۔ ریاستی وزیر نے کہا کہ ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں، اس کو سدھارنے کی ریونت ریڈی حکومت کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس حکومت نے پرانے شہر کو ترقی دینے کا منصوبہ تیار کیا ہے ۔ میٹرو ریل کے کاموں کا آغاز ہوچکا ہے ۔ ملک پیٹ میں آئی ٹی ٹاور کے کاموں کی بہت جلد پیشرفت ہوگی ۔ ینگ انڈیا اسکیل یونیورسٹی کا ایک تعلیمی مرکز اکبرالدین ایسی کے اسکول میں قائم کیا جائے گا تاکہ پرانے شہر کے طلبہ کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر کا بھی موقع فراہم کیا جاسکے۔ اردو میڈیم اسکولس کو ترقی دینے اور انفراسٹرکچر کو فروغ دینے میں کوئی جانبداری نہیں برتی جائے گی ۔ اکبرالدین اویسی نے اردو میڈیم کے روسٹر جائیدادیں ، خانگی اسکولس میں سہ لسانی فارمولہ پر عمل نہ ہونے کی ایوان کو توجہ دلائی ہے ۔ تعلیم کے ڈیمانڈ پر جواب دینے کی ذمہ داری چیف منسٹر نے ریاستی وزیر دامودھر راج نرسمہا کو سونپی ہے ۔ حکومت تعلیم کے معاملہ میں بہت زیادہ سنجیدہ ہے۔ کل تلنگانہ قانون ساز کونسل میں تعلیم پر خصوصی مباحثہ کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ اردو میڈیم کے جائیدادوں کو ڈی ریزور کرنے کے معاملہ میں حکومت آئندہ ڈی ایس سی کا نوٹیفکیشن جاری کرتے وقت اس پر سنجیدگی سے غور کرے گی ۔ 2