ایک بنچ سے تحقیقات پر حکم التواء جاری ، دوسری بنچ سے ملزمین کو گرفتار کرنے کا حکم
حیدرآباد ۔ 29 اکٹوبر (سیاست نیوز) ارکان اسمبلی کی خریدی کے معاملے میں ایک ہی نوعیت کے کیس میں ہائیکورٹ کے دو علحدہ علحدہ فیصلوں سے کیس میں نیا موڑ آیا ہے۔ ایک طرف حکومت کو نوٹس جاری کی گئی تو دوسری طرف ملزمین کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ بی جے پی کی داخل کردہ رٹ پٹیشن کا جائزہ لینے والی ہائیکورٹ کی بنچ نے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ درخواست کی بنیاد پر حکومت تلنگانہ اور مزید 8 افراد کو نوٹس جاری کی گئی ہے اور 4 نومبر تک مہلت دیتے ہوئے تحقیقات کو ملتوی کردیا گیا ہے۔ ساتھ ہی کاؤنٹر داخل کرنے کی تلنگانہ حکومت کو ہدایت دی ہے۔ یہی نہیں پولیس کو ہدایت دی گئی ہیکہ حکومت کی جانب سے کاؤنٹر داخل کرنے تک اس کیس کی تحقیقات کو ملتوی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اور اس پر حکم التواء بھی عائد کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کی جانب سے ہائیکورٹ میں داخل کردہ نظرثانی کی درخواست پر ہائیکورٹ نے ملزمین کو ریمانڈ میں روانہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ساتھ ہی ملزمین کو سائبرآباد پولیس کمشنر اسٹیفن رویندرا کے سامنے خودسپردگی کردینے کی ہدایت دی ہے۔ ملزمین کی جانب سے خودسپرد نہ کرنے پر انہیں گرفتار کرتے ہوئے اے سی بی کورٹ کے سامنے پیش کرنے اس کے بعد ریمانڈ میں روانہ کرنے کی پولیس کو ہدایت دی ہے۔ ہائیکورٹ کے تازہ احکامات کے بعد ارکان اسمبلی کو لالچ دینے والے تینوں ملزمین کو گرفتار کرتے ہوئے انہیں اے سی بی کورٹ منتقل کرنے کے قوی امکانات ہیں۔ تلنگانہ ہائیکورٹ کے دو علحدہ بنچوں کے دو علحدہ علحدہ فیصلوں سے کیس میں نیا موڑ آیا ہے۔ ایک بنچ نے ملزمین کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ دوسرے بنچ نے تحقیقات پر حکم التواء عائد کردیا جس کے بعد سائبرآباد پولیس کا آئندہ اقدام کیا ہوگا اس پر تجسس جاری ہے۔ن