شیخ الحفاظ حضرت ڈاکٹر شیخ احمد محی الدین شرفی ؒ،نسل نو کے عظیم معمار
امیرالشعراء احمد شوقی کی مشہور زمانے نظم کے تناظر میں
طالب علم کی زندگی میں ’’استاذ ‘‘ کی اہمیت صرف تعلیمی رہنمائی تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ اس کی فکری تشکیل ، اخلاقی تربیت اور روحانی ارتقاء کا بنیادی سرچشمہ ہوتا ہے۔ استاذ باطن کو تراشنے والا اور عقل و فکر کو جلا دینے والا وہ معمار ہوتا ہے جس کے بغیر شخصیت کی تعمیر ایک ادھورہ خواب بن کر رہ جاتی ہے ۔ اسی جامع اور ہمہ گیر تصور کو عربی زبان کے عظیم شاعر امیرالشعراء احمد شوقی (۱۸۶۸ء ۔ ۱۹۳۲ء ) نے اپنی مشہور زمانہ نظم ’’قُم لِلمُعَلِّمِ ‘‘ میں نہایت گہرائی اور وسعت سے پیش کیا ہے ۔ ان کے نزدیک استاد وہ ہستی ہے جس کا مقام اس قدر بلند ہے کہ وہ پیغمبرانہ مشن کا تسلسل محسوس ہوتا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں’’ كادَ المُعَلِّمُ أَن يَكونَ رَسولا ‘‘استاذ کی تعظیم بجالاؤ کیونکہ استاذ کا مقام گویا رسالت کے مقام و منصب کے قریب ہے کیونکہ وہ انسان کی عقل کو تاریکی سے نکال کر نورعلم سے منور کرتا ہے ، وہ محض معلومات منتقل نہیں کرتا بلکہ اندھی تقلید ، فکری جمود اور اخلاقی زوال سے بچاکر حق کی پہچان اور اس پر استقامت کی صلاحیت پیدا کرتا ہے ۔ وہ ایک epistemic agentتصور کیاجاتا ہے جو فرد کے ادراک ، استدلال اور اخلاقی سمت کو متعین و منظم کرتا ہے ۔ مزید برآں امیرالشعراء نے اس نظم میں علم کے ماخذ کو الٰہی تعلیم سے جوڑا ہے اور خالق کائنات کو ’’خیر معلم ‘‘ بتاکر استاذی و معلمی کے منصب کو سب سے اعلیٰ منصب قرار دیا ۔ تعلیم و تدریس کے اسی تسلسل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت نبی اکرم ﷺ کے آسمانی صحائف کی تعلیم و تلقین سے جوڑتے ہوئے درس و تدریس کی عظمت کو چار چاند لگادیااور اساتذہ و معلمین کو وارث انبیاء قرار دیا ۔ نظم کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ تاریخ کے تناظر میں قوموں کے عروج و زوال کو علم اور اساتذہ کے معیار سے مربوط بتاتے ہیں ، وہ یونان اور مصر جیسی عظیم تہذیبوں کی مثال دیکر یہ واضح کرتے ہیں کہ جب علم کی حقیقی روح اور اس کے امین ( اساتذہ ) زوال پذیر ہوجائیں تو عظیم قومیں بھی فکری و اخلاقی زوال کا شکار ہوجاتی ہیں ۔ یعنی نہ صرف طالبعلم بلکہ ایک قوم کی بقاء کا انحصار اس قوم کے اساتذہ و معلمین کی علمی وا خلاقی معیار پر ہوتا ہے۔ وہ استاد کی اخلاقی ذمہ داریوں کو اُجاگر کرتے ہیں کہ اگر قوم کے اساتذہ و معلمین خود عدل و بصیرت سے محروم ہوں تو یہ خرابی پوری نسل کی فکری بنیادوں کو متزلزل کرسکتی ہے ۔ اسی طرح وہ یتیمی کی ایک نئی جہت سے تعریف کرتے ہیں کہ اصل محرومی تربیت اور ہنمائی کی کمی ہے نہ کہ صرف والدین کے وجود سے محروم ۔ وہ قوم کی تعمیر میں باصلاحیت افراد کی قیادت کو بھی مرکزی حیثیت دیتے ہیں ۔ نااہل قیادت قوم و ملت کو خرافات میں اُلجھادیتی ہے ۔ اسی لئے قائدانہ اہلیت کو وہ اسی تعلیمی و تربیتی نظام کا حصہ قرار دیتے ہیں جس کی بنیاد ایک استاد رکھتا ہے ۔ اس طرح ایک استاد پورے معاشرہ کی سمت متعین کرنے میںکلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔ نظم کا خلاصہ یہی ہے کہ استاد ، عقل و شعور کا معمار ، اخلاق و کردار کا کا مربی حق و باطل میں تمیز پیدا کرنے والا رہنما اور فرد و معاشرہ دونوں کی تعمیر کا بنیادی ستون ہے ۔ طالب علم کی کامیابی ، اُس کی فکری پختگی اور اخلاقی بلندی کا دارومدار براہ راست استاذ کے معیار پر ہے جو اسے نہ صرف علم دیتا ہے بلکہ زندگی جینے کا شعور و ادراک بھی عطا کرتا ہے ۔
رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غمخوار ہمارے
استاد یہ قوموں کہ ہیں معمار ہمارے
اسی پس منظر میں جب ہم حضرت شیخ الحفاظ حضرت ڈاکٹر حافظ و قاری شیخ احمد محی الدین قادری شرفی ؒ کی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ حقیقت میں اسی پیغمبرانہ مشن پر مضبوطی سے کاربند رہے اور تاحیات ایک جماعت کو قوم و ملت کی رہنمائی کیلئے تیار کرتے رہے ۔ مجھ جیسے سینکڑوں طلباء ہیں ، آپ کی ایک نگاہ کرم نے اُن کی زندگیوں میں عظیم انقلاب بپا کیااور اُن کو صحیح direction دیا اور ہمیشہ اُن کی رہبری فرماتے رہے ۔
میری والدۂ ماجدہ بچپن میں مجھے قرآن پڑھاتی تھیں اور بعد نماز مغرب روزانہ پاؤ پارہ میں تلاوت کرتا ۔ میں تیسری جماعت میں تھا جب میرا ناظرۂ قرآن ختم ہوا تو میری والدہ کے اصرار پر میرے والد ماجد محترم المقام محمد عبدالقدیر صدیقی مدظلہ ریٹائرڈ اے سی پی و سابقہ مہتمم مکہ مسجد نے مجھے محض تجوید سکھانے کیلئے حضرت شیخ الحفاظ کی خدمت میں پیش کیا جب میں نے روانی سے قرآن مجید کی تلاوت کی تو حضرت شیخ الحفاظ نے والد گرامی کو مشورہ دیاکہ اس بچے کو حافظ بنائیں۔ والد گرامی نے فی الفور لبیک کہا اسی طرح استاد گرامی کی ایک نظر نے میری زندگی کی سمت پھیردی ۔ حفظ کا مرحلہ آسان نہیں ہوتا کئی نشیب و فراز آتے ہیں لیکن ہروقت استاد گرامی کی توجہہ شامل رہی اور جب کبھی غفلت و کوتاہی ہوتی حضرت کی فی الفور تنبیہ و رہنمائی اس مشکل سفر کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں مدد و معاون ثابت ہوتی ۔ بعد ختم حفظ مسلسل دور کروانے پر حضرت کی توجہہ رہی اور استاذالاساتذہ حضرت مولانا مفتی محمد ولی اللہ قادری ؒ سابق شیخ المعقولات جیسے کہنہ مشق شیخ وقت کو مکمل قرآن مجید سنانے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ نیز آپ کی ہمت و حوصلہ افزائی پر خاکسار حفظ ختم کرتے ہی دہے میں تین پارے سنانے کی جرأت کرسکا اور ہر سال تین دہے اور آخری دہے میں تہجد کے لئے آپ فکر کرتے ۔ بعد ختم حفظ والد گرامی ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے اور دسویں جماعت کے لئے عمر کم تھی ، جب حضرت شیخ الحفاظ ؒ سے مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ طوطے کی طرح حفظ تو کرلیاہے ایک سال ہمارے پاس عربی سیکھنے کے لئے بھیج دیجئے ۔ قرآن فہمی بھی پیدا ہوجائیگی۔ یہ میری زندگی کا Turning Point تھا اور جب میں دارالعلوم النعمانیہ کے شعبہ عربی میں داخلہ لیاتو وہاں ایسے قابل ، مخلص و مشفق اساتذہ کا نظم تھا جنھوں نے ہمارے دلوں میں عربی زبان اور علوم شریعت کی ایسی محبت پیدا کردی جس سے پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا اس طرح جامعہ نظامیہ جیسی عظیم دانشگاہ میں داخلہ کے اسباب بنے ۔ جب ہم اعلیٰ تعلیم کیلئے جامعہ نظامیہ پہنچے تو وہاں کی علمی رونق و بہار نے ایسا گرویدہ کیاکہ دیگر تمام علوم و ڈگریوں کی دل میں کوئی وقعت نہ رہی لیکن حضرت شیخ الحفاظ کی مسلسل اور ہر سال توجہ دہانی سے میں نے لطیفیہ عربی کالج سے ’’انٹرنس ‘‘ انٹرمیڈیٹ اور BAL کی ڈگری حاصل کی ۔ بسا اوقات خود حضرت شیخ الحفاظ نے میرے امتحان کی فیس ادا کی ۔ وہ ایسے استاد تھے جو اپنے شاگرد کی ترقی سے حد درجہ خوش ہوتے اور ان کے لئے ہر ممکنہ مواقع فراہم کرتے اور مرکزی مساجد ، مرکزی جلسوں میں متعارف کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔جب دارالعلوم النعمانیہ کا ایک مضبوط گروپ ہر سال جامعہ نظامیہ پہنچنے لگا تو آپ مخصوص طلباء کو پروان چڑھانے کے لئے عالیشان جلسوں کا اہتمام کرتے اور ان کو تقاریر کا موقع عطا کرتے ۔ نیز انہی جلسوں سے میری تقریر کا معیار بلند ہوا ۔ علاوہ ازیں تحقیقی شعور بڑھانے کیلئے آپ نے نعمانیہ کے زیراہتمام سمینار اور سمپوزیم منعقد کروائے اس کا بنیادی مقصد نعمانیہ کے فارغین کی حقیقی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنا اور ان کے لئے بڑے پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا ۔ بلاشبہ ان سمینارس نے نہ صرف نعمانیہ کے فارغین میں تبدیلی پیدا کی بلکہ دینی مدارس و جامعات کے طلباء بھی مستفید ہوئے ۔ جب میں نے جامعہ عثمانیہ سے M A کی تکمیل کی تو حضرت شیخ الحفاظ کے حـکم ، آپ ہی کی توجہہ سے آپ ہی کی نگرانی میں مجھے Ph.D کرنے کا موقعہ ملا اور آپ کی مسلسل تاکید و تنبیہ پر میں نے اپنا مقالہ مکمل کیا اور آپ نے اپنی کرم فرمائی سے سارے مراحل کی تکمیل کروائی اور مجھے PhD کی ڈگری حاصل ہوئی ۔ اس طرح میری ابتداء اور آخری سند سب حضرت شیخ الحفاظ کی عنایتوں کے مرہون منت ہے ۔ اس طرح مجھ جیسے بے شمار طلباء ہیں جن کے direction کو آپ نے طئے کیا اور ہر موڑ پر اُن کی رہبری و رہنمائی فرمائی اور آج جامعہ نظامیہ کے اہم و کلیدی عہدوں پر آپ ہی کے ادارہ کے فیض یافتہ علماء و محققین فائز ہیں۔ جو قوم و ملت کی عظیم خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ آپ نے اپنی ساری زندگی بے لوث قرآن مجید اور علوم شریعت کی خدمت کیلئے وقف کی ۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کی خدمات میں ایسی برکتیں عطا فرمائی کہ ہزاروں حفاظ و علماء آپ کے چشمۂ فیض سے فیضیاب ہوکر دنیا کے مختلف گوشوں میں علم کی روشنی کو عام کررہے ہیں ۔ اﷲ تعالیٰ آپ کی قبر کو نور سے بھردے اور آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔ آمین۔
زندگی تھی تیری مہتاب سے تابندہ تر
خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر