اسرائیلی درندگی کو بے نقاب کرنے والے جسٹس مرلیدھر

   

سیاست فیچر
آج کل دنیا بھر میں ہندوستان کے جج جسٹس مرلیدھر کے کافی چرچے ہیں اور اس چرچے کی وجہ ان کی دیانتداری جرأت و بے باکی ہے ۔ ایک طرف جہاں جسٹس ڈاکٹر ایس مرلیدھر سے مظلوم فلسطینی خوش ہیں وہیں اسرائیل ان سے سخت ناراض ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہیکہ انہوں نے اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ تیار کی جس میں اسرائیل کو فلسطینی بچوں کا قاتل قرار دیا ۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میںانصاف پسند لوگ جسٹس ڈاکٹر ایس مرلیدھر کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں ۔ آپ کو بتادیں کہ وہ اڑیشہ ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس تھے یعنی انہوں نے (2021-2023) اڑیسہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دی ہیں ۔ آپ کو یہ بھی بتاتے ہیں کہ جسٹس ایس مرلیدھر نے 2006 تا 2020 دہلی ہائیکورٹ کے ایک جج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں پھر پنجاب اور ہریانہ ہائیکورٹ کے جج کی حیثیت سے 2020-2021ء نمایاں خدمات انجام دینے کا اعزاز حاصل کیا اور پھر اڑیشہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے باوقار عہدہ کا جائزہ حاصل کرلیا ۔ ان کی جرأت و بے باکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے 2020 کے دہلی فسادات کے دوران پولیس سے جوابدہی کا مطالبہ کیا ۔ بہرحال فی الوقت جسٹس مرلیدھر نے اسرائیل کو جنگی مجرمین کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا ۔ ویسے بھی جسٹس مرلیدھر کو خاص طور پر ہندوستان میں مظلوموں و کمزوروں کی دادرسی کیلئے Out of the Way جاکر فیصلہ دینے کا اعزاز حاصل ہے ۔ آپ کو یہ بھی یاد دلادیں کہ فبروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی فرقہ وارانہ فسادات کے شعلوں میں لپیٹی ہوئی تھی تب جسٹس ڈاکٹر مرلیدھر نے نصف شب کو اپنے مکان پر ایک ہنگامی سماعت کی جس کا مقصد زخمیوں کو حفاظت کے ساتھ طبی امداد فراہم کرنا تھا ۔ اس وقت جسٹس مرلیدھر نے نہ صرف دہلی پولیس کو آڑے ہاتھو ں لیا بلکہ جن بی جے پی قائدین نے نفرت انگیز تقاریر کی تھیں اور نفرت پرمبنی بیانات جاری کئے تھے ان کی سرزنش بھی کی ۔ ان کے یہ الفاظ ’’ ہم اپنی نظرو ں کے سامنے اس تاریخی شہر میں دوبارہ 1984ء کے مخالف سکھ فسادات کی خون ریز تاریخ دہرانے کی اجازت نہیں دے سکتے، تاریخ میں سنہری الفاظ میں درج کئے جانے کے قابل نہیں لیکن افسو س کہ جسٹس مرلیدھر کے جرأت مندانہ موقف نے ایوان اقتدار میں ایک ہلچل پیدا کردی ۔ ایوان اقتدار میں بیٹھے عناصر کو ان کی جرأت پسند نہیں آئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے چند گھنٹوں میں ہی رات کی تاریکی میں ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ان کا تبادلہ پنجاب اور ہریانہ ہائیکورٹ کردیا گیا ۔ حد تو یہ ہیکہ2022 میں عدالت عظمیٰ کولجیم نے انہیں مدراس ہائیکورٹ کے عہدہ چیف جسٹس پر فائز کرنے کی سفارش کی ، تاہم حکومت نے کئی ماہ تک اس فیصلہ کو نظر انداز کیا اور پھر سپریم کورٹ کالجیم کو یہ تجویز سے دستبرداری اختیار کرنی پڑی ۔ افتخار گیلانی نے اپنے ایک مضمون میں ان کی مقبولیت کے بارے میں لکھا کہ جب وہ ریٹائرڈ ہوئے تب وکلاء برادری نے عدالت کے کمرے سے لیکر روڈ تک قطاروں میں ٹھہر کر الوداع کہا اور یہ واقعہ عدالتی تاریخ میں بے نظیر بن گیا اور اب انہوں نے جنیوا کے عالمی اسٹیج سے اسرائیلی کی درندگی اس کے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کو بے نقاب کر کے رکھ دیا اور کہا کہ اب اسرائیلی جرائم کی صرف زبانی مذمت کرنے کا وقت گزر چکا ہے ، اب تو اس کے خلاف عملی اقدام کا وقت آچکا ہے ۔ جسٹس مرلیدھر کی زیرقیادت کمیشن نے اسرائیلی فوج کی ان تمام ڈیویژنوں ، بریگیڈر اور بٹالین کی نشاندہی کردی جو بھیانک جرائم کے مرتکب تھے ۔ جسٹس مرلیدھر اس خیال کے حامی ہیں کہ ہندوستان کے بشمول دنیا بھر کے ممالک کو اپنی قانونی ذمہ داریاں اچھی طرح نبھانی چاہیئے ۔ عالمی قانون کا ایک اصول عالمی دائرہ اختیار ہے اور اس اصول کے مطابق سنگین جرائم میں ملوث عناثر کے خلاف دنیا کا کوئی بھی ملک اپنے یہاں مقدمہ چلاسکتا ہے ،چاہے وہ جرم دنیا کے کسی بھی حصہ میں ہوا ہو اور متاثرین کا کسی بھی ملک سے تعلق ہو ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ جسٹس مرلیدھر کی زیرقیادت جو تحقیقاتی رپورٹ تیار کی گئی اس میں بتایا گیا کہ اکٹوبر 2023ء سے اکٹوبر 2025ء کے درمیان 20 ہزار سے زائد فلسطینی بچوں نے جام شہادت نوش کیا اور فلسطینی ڈاکٹروں نے اس کیلئے زخمی بچہ کی اصطلاح وضع کی یعنی جس بچہ کا کوئی رکن خاندان نہیں بچا ۔ ہاں آپ کو یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ 6سالہ فلسطینی لڑکی ہندرجب کا بھی رپورٹ میں ذکر ہے اس کی آہ و زاری کی آواز نے یقیناً دنیا کو دہلاکر رکھ دیا تھا ۔ ہندرجب اس گاڑی میں موجود تھی جس میں اس کے ارکان خاندان کی نعشیں رکھی ہوئی تھیں اور بار بار بچاؤ و راحت کاری عملے سے مدد کی اپیل کررہی تھی ، فون پر گریہ و زاری کررہی تھی ۔ جسٹس مرلیدھر کی قیادت میں کمیٹی نے مختلف شواہد خاص کر تصاویر وغیرہ سے یہ ثابت کیا ہیکہ اسرائیلی افوا ج نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ گاڑی میں بچے موجود ہیںاس گاڑی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا اور مدد کیلئے روانہ کی گئی ایمبولنس کو بھی حملہ کا نشانہ بناکر طبی عملہ کو شہید کردیا ۔ حد تو یہ ہیکہ بارہ اور دس سال کے فلسطینی بچوں کو دہشت گرد قرار دے کر شہید کردیا گیا ۔