میدک سے راجندر اور رگھونندن راؤ کی دعویداری
ریاست سے زائد نشستوں پر کامیابی کا منصوبہ
حیدرآباد۔/19 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) اسمبلی انتخابات میں مایوس کن مظاہرہ کے بعد بی جے پی نے لوک سبھا انتخابات پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اسمبلی چناؤ میں بی جے پی کے دو سرکردہ قائدین ایٹالہ راجندر اور رگھونندن راؤ کو حضورآباد اور دوباک سے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور دونوں قائدین لوک سبھا چناؤ میں حصہ لینے کیلئے موزوں حلقہ کی تلاش میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ راجندر نے میدک لوک سبھا حلقہ سے انتخابات میں حصہ لینے کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے جبکہ رگھونندن راؤ کی نظریں بھی اسی نشست پر بتائی جارہی ہیں۔ راجندر نے اپنے حلقہ حضورآباد کے علاوہ سابق چیف منسٹر کے سی آر کے خلاف گجویل سے مقابلہ کیا تھا۔ لوک سبھا حلقہ میدک میں مدیراج رائے دہندوں کی قابل لحاظ تعداد کو دیکھتے ہوئے راجندر پارلیمنٹ الیکشن میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف رگھونندن راؤ نے 2014 کے ضمنی چناؤ میں تیسرا مقام حاصل کیا تھا۔ بی آر ایس کے موجودہ رکن اسمبلی پربھاکر ریڈی نے اس حلقہ سے کامیابی حاصل کی۔ 2014 اور پھر 2019 میں پربھاکر ریڈی میدک لوک سبھا حلقہ سے کامیاب رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی نے سابق رکن پارلیمنٹ آنجہانی اے نریندر کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانے کی تیاری کرلی ہے۔ اسی دوران بی جے پی کے تلنگانہ انچارج سنیل بنسل نے پارٹی کارکنوں اور کیڈر کو ہدایت دی ہے کہ ابھی سے لوک سبھا چناؤ کی تیاریوں کا آغاز کردیں۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور قومی صدر جے پی نڈا نے تلنگانہ میں لوک سبھا کی زائد نشستوں پر کامیابی کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ر