حیدرآباد میں دوباک کا نتیجہ دہرایا جائے گا، امیدواروں کے انتخاب پر مشاورت
حیدرآباد: مرکزی مملکتی وزیر داخلہ جی کشن ریڈی نے اسٹیٹ الیکشن کمیشن پر ریاستی حکومت کے ساتھ ملی بھگت کا الزام عائد کیا اور کہا کہ حکومت کے اشارہ پر انتخابی اعلامیہ عجلت میں جاری کیا گیا۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ انتخابات کیلئے اس قدر عجلت کی کیا ضرورت ہے۔ امیدواروں کو پرچہ جات نامزدگی داخل کرنے کیلئے صرف تین دن کا وقت دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کو انتخابی مہم سے دور رکھنے کیلئے ٹی آر ایس پر سازش کا الزام عائد کیا ۔ کشن ریڈی نے دعویٰ کیا کہ گریٹر حیدرآباد میں نتیجہ دوباک کی طرح بی جے پی کے حق میں رہے گا ۔ اسی دوران کشن ریڈی اور الیکشن کوآرڈینیشن کمیٹی کے صدرنشین ڈاکٹر لکشمن نے پارٹی قائدین کے ساتھ اجلاس میں امیدواروں کے انتخاب کا جائزہ لیا ۔ پارٹی نے انتخابی مہم اور انتخابی منشور کی اجرائی کے سلسلہ میں تبادلہ خیال کیا۔ کشن ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد کی ترقی کے بارے میں ٹی آر ایس حکومت کے دعوے مضحکہ خیز ہے۔ حالیہ بارش اور سیلاب نے ترقی کے دعوؤں کی پول کھول دی ہے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گریٹر حیدرآباد میں بی جے پی کو برسر اقتدار لائیں تاکہ شہر کی ہمہ جہتی ترقی ممکن ہوسکے۔ سوچھ بھارت مہم کے دوران چیف منسٹر نے سکندرآباد اسمبلی حلقہ کو اختیار کیا تھا لیکن آج تک اس حلقہ کی ترقی کے بارے میں کوئی اجلاس تک طلب نہیں کیا گیا ۔ کے سی آر صرف زبانی بیانات کے ذریعہ عوام کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک جی ایچ ایم سی میں ٹی آر ایس اور مجلس کا اقتدار رہے گا ، اس وقت تک پرانے شہر میں میٹرو ریل پراجکٹ کی توقع نہیں کی جاسکتی۔