اسکولی سطح پر آرٹیفشل انٹلی جنس کے استعمال میں برازیل دنیا میں سرفہرست

   

ہندوستانی طلبہ کو دوسرا مقام، ہوم ورک اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں عصری ٹیکنالوجی کا استعمال
حیدرآباد 28 اپریل (سیاست نیوز) آرٹیفشل انٹلی جنس کے انقلاب نے اگرچہ زندگی کے ہر شعبہ کو متاثر کیا ہے لیکن اسکول کی سطح پر طلبہ کی جانب سے ہوم ورک اور ریسرچ کے لئے آرٹیفشل انٹلی جنس کے استعمال کے رجحان نے ماہرین تعلیم کو چونکا دیا ہے۔ دنیا بھر میں اسکولی طلبہ کی جانب سے آرٹیفشل انٹلی جنس کے استعمال سے متعلق سروے میں اِس بات کا انکشاف ہوا کہ برازیل میں 11.6 فیصد طلبہ ہوم ورک اور دیگر سرگرمیوں جیسے رائٹنگ اور سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لئے آرٹیفشل انٹلی جنس کا استعمال کررہے ہیں۔ اِس اعتبار سے برازیل اسکولی سطح پر عصری ٹیکنالوجی کے استعمال میں دنیا میں سرفہرست ہے۔ جس طرح سوشل میڈیا کا ہندوستان میں استعمال عام ہوچکا ہے اُسی طرح اسکولی سطح پر آرٹیفشل انٹلی جنس کے استعمال میں ہندوستان دوسرے نمبر پر ہے۔ سروے میں بتایا گیا کہ 11.5 فیصد اسکولی طلبہ ہوم ورک اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کے لئے اِس ٹیکنالوجی سے استفادہ کررہے ہیں۔ اٹلی 11.5 فیصد کے ساتھ تیسرے اور کینیڈا 10.6 فیصد کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ دنیا کا سوپر پاور امریکہ آرٹیفشل انٹلی جنس کے اسکولی سطح پر استعمال کے معاملہ میں 9.9 فیصد کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہا۔ جرمنی میں 8.8 فیصد اسکولی طلبہ آرٹیفشل انٹلی جنس سے استفادہ کررہے ہیں۔ فرانس میں یہ تعداد 7.4 اور ٹیکنالوجی میں دنیا بھر میں اپنی منفرد شناخت رکھنے والا جاپان 5.6 فیصد کے ساتھ آٹھویں مقام پر ہے۔ اسکولی سطح پر عصری ٹیکنالوجی سے استفادہ کے معاملہ میں دنیا کے جن 10 ٹاپ ممالک کا انتخاب کیا گیا اُن میں برطانیہ 4.6 فیصد کے ساتھ 10 ویں نمبر پر رہا۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ طلبہ کو تعلیمی سرگرمیوں اور خاص طور پر امتحانات سے قبل تیاری میں آرٹیفشل انٹلی جنس مددگار ثابت ہوا ہے۔V/1/k/b