پی چدمبرم … سابق مرکزی وزیر داخلہ و فینانس
آج کل خاص طورپر سیاسی شعبہ میں اشتہاربازی اپنے نقطہ عروج پر ہے اور دیکھا جائے تو حکمراں جماعت اور اس کے قائدین اشتہاربازی میں نمودونمائش میں بہت زیادہ مبتلا نظر آتے ہیں جبکہ حقیقت میں دیکھا جائے تو اشتہاربازی کامیاب لوگوں کیلئے نہیں کارنامے انجام دینے والوں کیلئے نہیں بلکہ مشتہرین کیلئے ہوتی ہے اور ایسے لوگوں کیلئے ہوتی ہے جو اپنی شبیہ بنانے اور اپنی زیادہ سے زیادہ تشہیر کے خواہاں رہتے ہیں ۔ 9 جون کے آس پاس کئی انگریزی اور تامل اخبارات اور غالباً ہندوستان کے تمام اخبارات میں ایک مکمل صفحہ کا اشتہار شائع کروایا گیا جس میں گزشتہ 12 برسوں کے دوران مودی حکومت کے کارناموں کی ایک طویل فہرست پیش کی گئی ۔ اس اشتہار کے ذریعہ عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پچھلے 12 برسوں کے دوران نریندر مودی کی قیادت میں ملک نے زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں۔
اہم سنگ میل : اگر دیکھا جائے تو 12 سال کوئی کم عرصہ نہیں ہوتا ۔ 12 سال اقتدار پر رہنا ایک بڑا اور اہم سنگ میل ہے ۔ مودی حکومت پہلی مرتبہ سال 2014 ء میں منتخب ہوئی ، 2019 ء کے عام انتخابات میں بھی اسے دوبارہ کامیابی ملی اور 2024 ء لوک سبھا انتخابات میں اگرچہ وہ اقتدار برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئی لیکن اسے وہ کامیابی نہیں ملی جس کی اسے توقع تھی ۔
بہرحال بی جے پی نے مودی کے دور اقتدار کو ہندوستان کے کسی بھی منتخب وزیراعظم کے سب سے طویل ترین دور کے لئے سراہا اُس کی تعریف و ستائش کی اور حد تو یہ ہے کہ غیرضروری طورپر اس کا تقابل یا موازنہ پنڈت جواہر لال نہرو کے دورِ حکومت سے کیا گیا ۔ موازنہ کے بغیر بھی 12 سالہ دورِ اقتدار یقینا قابل ذکر ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو کو آزاد ہند کے پہہلے وزیراعظم ہونے کا اعزاز حاصل رہا اور انھوں نے ہندوستان کو زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ باالفاظ دیگر ہم بجا طورپر یہ کہہ سکتے ہیں کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے آزاد ہند کے پہلے وزیراعظم کی حیثیت سے ترقی و خوشحالی کی بنیاد ڈالی ۔ واضح رہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے 1952 ء ، 1957 ء اور 1962 ء کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور وہ پورے 17 برسوں تک عہدہ وزارت عظمیٰ پر فائز رہے ۔ اس طرح اُنھیں اب تک طویل برسوں تک وزیراعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کا اعزاز حاصل ہے ۔ جہاں تک حکومتوں کے دعوؤں کا سوال ہے ہر حکومت کو دعوے کرنے کا حق ہے اور اس معاملہ میں کچھ حد تک مبالغہ آرائی برداشت کی جاتی ہے لیکن ہم سطور بالا میں جن اشتہارات کا ذکر کیا ہے وہ اشتہارات مبالغہ آرائی سے کہیں آگے نکل چکے ہیں ۔ عوام نے دو سال قبل مودی کے بڑھا چڑھاکر پیش کئے گئے دعوؤں کو اچھی طرح دیکھ لیا تھا اور پھر سارے ملک نے دیکھا کہ بی جے پی کو عوام نے کیسے لوک سبھا انتخابات میں 240 نشستوں تک محدود کردیا تھا جس کے نتیجہ میں بی جے پی سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کرسکی اور دو سال بعد وہی دعوے دبارہ کئے جارہے ہیں ۔بناء کسی بغض و عناد اور بدنیتی کے راقم الحروف ان دعوؤں میں سے چند کی مثال پیش کرنا چاہتا ہے اور عوام کو حقیقت سے واقف کروانا چاہتا ہوں ۔
حکومت کا ایک دعویٰ ہے کہ اس نے تین کروڑ لکھ پتی دیدی بنائی ہیں۔ آخر یہ لکھ پتی دیدی کیا ہے ۔ لکھ پتی دیدی سے متعلق حکومت نے جو تعریف کی ہے یہ سیلف ہیلپ گروپ (SHS) کی خاتون رکن ہے۔ اگسٹ 2025 ء میں یہ بتایا گیا کہ سیلف ہیلپ گروپس کے 1,48,00,000 ارکان لکھ پتی دیدی بنے ۔ مارچ 2026 ء میں پارلیمنٹ میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ سیلف ہیلپ گروپ کے 3,07,33,820 ارکان نے خود کو لکھ پتی دیدی قرار دیا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ سیلف ہیلپ گروپ کوئی نئی بات نہیں ہے جبکہ مودی حکومت سے پہلے ہی سے یو پی اے حکومت نے ملک بھر میں خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کی بنیاد ڈالی تھی اور یہ گروپس بڑی کامیابی کے ساتھ چلائے جارہے تھے اور سیلف ہیلپ گروپس نے نہ صرف خواتین کی مہارت میں اضافہ کیا بلکہ اُنھیں بااختیار بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ ساتھ ہی خواتین کو کمانے کے قابل بنایا ۔ اُن کی آمدنی بڑھائی لیکن مودی حکومت نے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے 3 کروڑ خواتین کو لکھ پتی دیدی بنایا جسے ہم ایک بلند بانگ دعویٰ کہہ سکتے ہیں مجھے تو شک ہے کہ آزادانہ آڈٹ سے اس دعویٰ کی توثیق نہیں ہوسکتی ۔ چلئے حکومت کے اس دعوے کو قریب سے دیکھتے ہیں ۔
آپ کو بتادیں کہ ہندوستان میں کام کرنے والی عمر کی خواتین (15 سال یا اُس سے زائد ) کی آبادی 53 کروڑ ہے اور Female Participation کی شرح 41.7 فیصد ہے اور یہ تعداد 22 کروڑ بنتی ہے ۔ یہ ایسی خواتین ہیں جو کام کررہی ہیں یا بڑی سرگرمی کے ساتھ کام حاصل کرنے کی خواہاں ہیں۔ اگر 3کروڑ خواتین کو لکھ پتی دیدی بنانے کے دعویٰ کو قبول کیا جاتا ہے تو لیبر فورسس میں ہر سات میں سے ایک خاتون ( بڑی سرگرمی سے کام کررہی ہے یا کام حاصل کرنے کی خواہاں ہے ) لکھ پتی ہے ۔ آپ کو یہ بھی بتادیں سیلف ہیلپ گروپس ارکان ( جس میں تقریباً خواتین شامل ہیں ) کی تعداد اندازاً 9-10 کروڑ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دعویٰ عورت کی Networth سے متعلق نہیں بلکہ اُس کے گھر کی سالانہ آمدنی سے متعلق ہے ۔ اس دعویٰ میں یہ بات چھپادی جاتی ہے کہ گھر کے دوسرے ارکان بھی اچھی خاصی آمدنی حاصل کرسکتے ہیں۔ یا وہ آمدنی کے حامل ہوسکتے ہیں ۔ گھرانے کی مجموعی سالانہ آمدنی پہلے ہی ایک لاکھ روپئے ہوسکتی ہے اور متعلقہ خاتون اس میں صرف اپنا ایک حصہ ڈالتی ہے ۔ ویسے بھی سالانہ ایک لاکھ روپئے گھریلو آمدنی کوئی غیرمعمولی بات نہیں اور وہ بھی ایک ایسے ملک میں جہاں فی کس سالانہ اوسط آمدنی 205324 روپئے ہو ۔ یہ ایک عام بات ہے لہذا یہ دعویٰ کہ حکومت نے سیلف ہہیلپ گروپس ارکان میں سے 3 کروڑ لکھ پتی دیدی پیدا کی ہیں حقیقت سے بعید معلوم ہوتا ہے۔
حکومت کا ایک اور دعویٰ ہیکہ اس نے 19 ہزار سے زائد جن اوشدھی اسٹورس کھولے ہیں ۔ آپ کو بتادوں کہ جن اوشدھی اسٹور پروگرام 2008 ء میں شروع کیا گیا تھا لیکن 2013 ء میں وہ ناکام ہوگیا ۔ حکومت کو کاروبار نہیں کرنا چاہئے موقف کے بعد مودی حکومت نے 2015 ء میں اس پروگرام کو فرنچائز ماڈل کے تحت ازسرنو ترتیب دے کر دوبارہ شروع کیا تاکہ معیاری ادویات مناسب قیمتوں پر فراہم کی جاسکیں۔ بہرحال حکومت کے پروگرامس پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے لیکن حکومت کامیابی کے بڑے دعوے کرتی ہے ۔