اعلی ذات کے ہندوگھرانوں میں آج بھی پردہ کی اہمیت: مفتی محمد اسماعیل

   

مالیگاؤں : مہاراشٹرا کے مالیگاوں شہر میں حجاب کی حمایت میں ہزاروں مسلم خواتین نے مظاہرہ کیا اور عزم کیا کہ تاعمر وہ حجاب کا استعمال کریگی۔ اس موقع پر منعقدہ دعائیہ مجلس اور پرسوز دعائیہ کلمات سے آٹھ ایکڑ پر مشتمل پورا اسٹیڈیم آہ وفغاں سے گونج اُٹھا ۔ اس موقع پر صرف مالیگاوں کے رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل نے ہی خطاب کیا اور کہا کہ اعلی ذات کے ہندوگھرانوں میں آج بھی پردے کی اہمیت برقرار ہے اور خواتین اور جوان لڑکیاں جب بڑی عمر اور مرتبے کے مردوں کے سامنے آتی ہیں تووہ چہرہ ڈھانک کر آتی ہیں ۔ ہندوستان کی تہذیب میں خواتین ولڑکیوں کی عزت کی حفاظت پر توجہ دی گئی ہے ۔ انہوں نے تاریخ کے حوالے سے بتایا کہ راون کی قید میں سیتا نے پردہ کیاتھا اس بات کا پتہ اس وقت چلا جب سیتا کے دیور لکشمن سے کہا گیا کہ آکر وہ اپنی بھابھی کی شناخت کریں تو لکشمن نے چہرے سے نہیں بلکہ پازیب اور پیر دیکھ کر اپنی بھابھی کی شناخت کی تھی ۔ مفتی اسماعیل نے مزید کہا کہ حجاب خواتین کیلئے حفاظت کا ذریعہ ہے۔
عصمت دری کے واقعات میں اضافے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ لڑکیاں اور خواتین اپنا جسم چھپانے کیلئے کم سے کم کپڑے استعمال کرنے لگی ہیں اور عجب بات ہے کہ جسم کی حفاظت کیلئے نقاب استعمال کرنے پر فرقہ پرست طاقتیں واویلا مچارہی ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ شر پسندی کا جواب آئین کے دائرے میں رہ کر دیا جائے گا نیز لباس کے استعمال پر روک لگانے کیلئے شرپسندی کرنادستور ہند کی سراسر خلاف ورزی ہے ۔
مفتی اسماعیل نے مزید کہا کہ جو لوگ پردے کی مخالفت کررہے ہیں وہ دراصل نسوانی تہذیب وعصمت کے مخالف ہیں ۔انتہائی جذباتی انداز میں انہوں نے کہا کہ کرناٹک کے کالج میں فرقہ پرستوں کے نرغے میں آئی بی بی مسکان کی جرات مندی کو اہل مالیگائوں سلام عرض کرتے ہیں اور مسکان کی بہادری کی سراہنا کرتے ہیں ۔