اعلیٰ اخلاق کے ذریعہ اِسلام کو پیش کرنے کی تلقین

   

سدی پیٹ میں محافل درود سے مولانا حافظ احمداللہ حسینی کا خطاب

سدی پیٹ۔ 13؍ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔ جب بھی فتنوں کا دور دیکھیں تو علماء سے قریب ہوجاؤ اور جب ان سے قریب ہوگئے تو انکی برکتوں سے مستفید ہو جائینگے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا حافظ احمداللہ حسینی المعروف جنید پاشاہ جامعہ نظامیہ حیدرآباد نے بحیثیت مہمان خصوصی سدی پیٹ میں گھر گھر درود و سلام کمیٹی کے زیر اہتمام قادر پورہ محمد عثمان سیٹ ون کے مکان میں منعقدہ محفل درود شریف میں قرآن کریم کی آیات تلاوت کے بعد بیان کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ گھر گھر درود وسلام کمیٹی کی جانب سے بعد نماز فجر محافل درود کے انعقاد سے عظیم المرتبت کام انجام دیا جا رہا ہے کیونکہ اس کے دو خصوصیات ہیں ایک اس محفل میں شامل ہونے والا کوئی بھی فجر کی نماز چھوڑنے والا نہیں ہے اور دوسری کرم فرمائی یہ ہے کہ درود کی محفل علمائے اکرام اور حفاظ اکرام کی نگرانی میں ہو رہی ہیں جسکا ہمیں حکم ہے فتنوں کے دور میں علماء سے قریب ہوجاو۔ اور محافل درود میں جڑنے والے قابل مبارک باد ہیں۔ انہوں کہا کہ درود پاک کا ذکر افضل عمل ہے۔ بزرگوں نے بتایا کہ درود پاک ایک ایسا عمل ہے کہ جب بندہ درود شریف پڑھتا ہے تو دونوں فرشتے منکر نکیر مصروف ہو جاتے ہیں اس کا کرم یہ ہوتا ہے کہ درود جیسے ہی زبان سے ادا ہوتا ہے تو دائیں جانب والا فرشتہ ہمارے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھ دیتا ہے اور بائیں جانب والا فرشتہ گناہ مٹا دیتا ہے۔ اسلام کو پیش کرنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ بازاروں میں اخلاق کے ذریعے اسلام کو پیش کریں سرکار مدینہ کے اخلاق بتائیں تاکہ ہر قوم پکار اٹھے محمد ہمارے بڑی شان والے ہیں۔ انہوں نے صحابہ کے دور کے واقعہ کا تذکرہ کیا۔ مولانا اپنی تقریر کے آخر میں حضورؐ کے سنتوں اور طریقہ کے مطابق زندگی گزارنے پر زور دیا۔ قبل ازیں درود شریف کا ذکر ہوا مولانا مفتی مجیب اشرف نے قصیدہ بردہ شریف کو پڑھا۔ کمیٹی کے صدر محمد عبدالحمید رضوی، نائب صدر حافظ محمد عبدالوہاب خان اور معتمد حمید بابا نے محفل میں مہمانوں کا استقبال کیا۔ صلوۃ سلام نذرانہ عقیدت کے بعد طعام کے ساتھ محفل کا اختتام ہوا۔