صدرنشین مینارٹیز ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل کا اعلان، اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری ٹھپ
حیدرآباد ۔ 29 ۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مینارٹیز ڈپارٹمنٹ نے ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے اقلیتوں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکامی پر ایک ہفتہ طویل احتجاجی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کرنا ہے۔ مینارٹیز ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین شیخ عبداللہ سہیل نے بتایا کہ اگست میں ایک ہفتہ طویل احتجاجی پروگرام منظم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں اقلیتیں بالخصوص مسلمان ٹی آر ایس دو حکومت میں ناانصافی اور جانبداری کا شکار ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر نے سیکولرازم کا جھوٹا نقاب لگالیا ہے اور ان کی حکومت اقلیتوں کو نشانہ بنارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوںکی بھلائی کیلئے درکار فنڈس کی اجرائی میں حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری ٹھپ ہوچکی ہے۔ اقلیتی نوجوانوں کو تعلیم کے لئے قرض کی فراہمی روک دی گئی۔ اقلیتوں کو درپیش مسائل پر ایک ہفتہ طویل احتجاجی پروگرام کے سلسلہ میں صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی سے مشاورت کرتے ہوئے پروگرام کو قطعیت دی جائے گی ۔ اے آئی سی سی مینارٹیز ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین عمران پرتاپ گڑھی ایم پی کو ان پروگراموں میں مدعو کیا جائے گا ۔ شیخ عبداللہ سہیل نے بتایا کہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی میں ناکامی کے علاوہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ ، اقلیتی نوجوانوں کو روزگار اور قرض کی عدم فراہمی ، اردو زبان کی دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے عمل آوری میں ناکام جیسے اموت پر احتجاج کیا جائے گا ۔ کے سی آرحکومت نے وقف بورڈ کو جوڈیشیل پاورس کا وعدہ کیا تھا لیکن برسر اقتدار پارٹی سے تعلق رکھنے والوں کو اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضہ کا موقع فراہم کیا گیا ہے ۔ گزشتہ 8 برسوں میں ایک انچ اراضی کا تحفظ نہیں ہوا ۔ وقف بورڈ سکریٹری مساجد کے تحفظ میں ناکام رہا۔ عنبر پیٹ کی ایک خانہ مسجد آج تک تعمیر نہیں کی گئی ۔ شیخ عبداللہ سہیل نے بتایا کہ ریاست میں 15 تا 20 لاکھ اقلیتی نوجوان روزگار کے اہل ہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن نے سابق میں حاصل کی گئی درخواستوں کو منسوخ کردیا ہے۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے قرض کے لئے درخواستیں حاصل کی جائیں گی اور انہیں اقلیتی فینانس کارپوریشن کے حوالے کیا جائے گا۔ اقلیتوں کی معاشی و تعلیمی ترقی سے متعلق 20 مختلف مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ ر