اقلیتوں کیلئے سب پلان چیف منسٹر کے پاس زیر غور

   

تلنگانہ قانون ساز کونسل میں عامر علی خان کے سوال پر ریاستی وزیر سیتااکاکا جواب
حیدرآباد 18 مارچ (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل عامر علی خان کے سوال پر ریاستی وزیر سیتااکا نے کہا کہ اقلیتوں کیلئے سب پلان پر چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔ تلنگانہ کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران عامر علی خان نے اقلیتوں کے سب پلان کے علاوہ دیگر سوالات کئے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کیلئے سب پلان نہ ہونے سے بجٹ میں اقلیتوں کو جو فنڈز منظور کئے جارہے ہیں وہ کسی نہ کسی وجہ سے مکمل جاری نہیں کئے جارہے ہیں۔ ایس سی، ایس ٹی طبقات کیلئے سب پلان ہے۔ اگر ان کا بجٹ استعمال نہیں ہو رہا ہے تو دوسرے سال بجٹ میں شامل کرلیا جارہا ہے۔ اس طرح اقلیتوں کیلئے بھی سب پلان متعارف کرایا جائے تو اقلیتوں کا مکمل بجٹ خرچ ہوگا۔ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں بھی مسلمانوں نے میناریٹی سب پلان کا مطالبہ کیا تھا لیکن سابق حکومت نے اقلیتوں کے دیرینہ مطالبہ کو پورا نہیں کیا۔ اب ساری اقلیتیں بالخصوص مسلمان کانگریس حکومت سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ عامر علی خان نے حالیہ طبقاتی سروے میں او سی مسلمانوں اور بی سی مسلمانوں کی آبادی سے متعلق بھی تفصیلات طلب کی۔ ریاستی وزیر سیتااکا نے کہا کہ کانگریس حکومت اقلیتوں کی ترقی، بہود میں عہد کی پابند ہے۔ اقلیتوں کی تعلیمی معاشی پسماندگی کو دور کرنے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انٹیگریٹیڈ اسکولس قائم کئے جارہے ہیں۔ اقلیتی بیروزگار نوجوانوں کو خود روزگار فراہم کرنے قرض فراہم کئے جارہے ہیں۔ خواتین کو سیونگ مشین دی جارہی ہیں۔ پرانے شہر میں میٹرو ریل کی تعمیرات کا آغاز ہوگیا ہے۔ سیتکا نے کہا کہ حکومت نے حالیہ ذات پات کا سروے کرایا جس میں پتہ چلا کہ ریاست کی آبادی 3,55,759 ہے جس میں او سی 56,13,389 ہیں اور او سی میں مسلمانوں کی آبادی 8,83,533 جو 2.49 فیصد ہے۔ اس طرح بی سی آبادی 2,00,37,668 ہے۔ بی سی میں مسلمانوں کی آبادی 35,86,810 ہے جس کا تناسب 10.09 فیصد ہے۔ 2