مستقل عہدیداروں کے تقرر میں ٹال مٹول، ہر معاملہ میں نظرانداز کرنے کی پالیسی ٹی آر ایس سے مسلمانوں کی دوری کا سبب بن سکتی ہے
حیدرآباد۔16۔اکٹوبر(سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کے ساتھ حکومت کا سوتیلا سلوک ہے یا حکومت میں شامل بعض متعصب عہدیداروں کے تعصب کا شکار محکمہ اقلیتی بہبود بن رہا ہے!محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی ٹھپ ہونے کے متعلق متعدد شکایات اور نمائندگیوں کے باوجود چیف منسٹر کے دفتر و چیف سیکریٹری کی جانب سے کوئی کاروائی نہ کئے جانے پر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ریاستی حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کو بے یار و مددگار چھوڑ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے کیونکہ مسلسل کسی عہدیدار یا ادارہ کے سلسلہ میں شکایات موصول ہونے کے باوجود اختیار کردہ رویہ کی وجہ غفلت و لاپرواہی نہیں ہوتی بلکہ مسئلہ کی سنگینی کو جاننے کے باوجود اختیار کیا جانے والا مشتبہ ہوجاتا ہے اور حکومت کے علاوہ چیف سیکریٹری اقلیتوں میں مشتبہ ہونے لگے ہیں کیونکہ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے اداروں میں مستقل سربراہان کی عدم موجودگی کی شکایات اور موجود عہدیداروں کے رویہ اور کارکردگی کے متعلق واقف کروائے جانے کے باوجود بہانہ بازی کے ذریعہ اختیار کی جانے والی خاموشی تلنگانہ راشٹر سمیتی سے مسلمانوں کو دور کرنے کا سبب بن رہی ہے کیونکہ ریاست میں مسلمانوں سے متعلق محکمہ جات و اداروں کی حالت کا اندازہ لگاناکسی بھی شہری کیلئے مشکل نہیں رہا کیونکہ بجٹ کی اجرائی سے اسکیمات پر عمل آوری تک ہر معاملہ میں مسلمانوں کو نظراندازکرنے کی پالیسی اختیار کی جانے لگی ہے ۔اقلیتی اداروں میں مستقل عہدیداروں کے تقرر کے سلسلہ میں کی جانے والی نمائندگیوں پر حکومت کی جانب سے بارہا یہ کہاجاتا رہا ہے کہ ریاست میں مسلم عہدیداروں کی قلت کے سبب حکومت ان اداروں پر مستقل عہدیداروں کے تقرر سے قاصر ہے اور جو مسلم عہدیدار ترقی کی راہ دیکھ رہے ہیں ان کے لئے کہا جا رہاہے کہ اگر انہیں ترقی دی جاتی ہے تو ان سے پہلے 5 عہدیداروں کو ترقی دینے کے اقدامات کرنے پڑیں گے لیکن ریاستی حکومت نے سابق میں اپنی مرضی کے مطابق 5یا50 نہیں بلکہ 80 عہدیداروں کی ترقی کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی پسند کے ایک عہدیدار کو ترقی دینے کے اقدامات کئے تھے علاوہ ازیں چیف منسٹر کیمپ آفس میں تقرر کے لئے زائد از 12 عہدیداروں کی ترقی کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک عہدیداروں کو ترقی دی گئی تھی لیکن اب جبکہ ایک مسلم عہدیدارکی ترقی کا معاملہ ہے تو یہ کہا جا رہاہے کہ 5 عہدیداروں کی ترقی کے بغیر ان کی ترقی کے اقدامات نہیں کئے جاسکتے ۔ حکومت کے اس موقف سے اندازہ ہورہا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود اور مسلم عہدیدار ریاستی حکومت میں شامل بعض متعصب عہدیداروں کے تعصب کا شکار ہورہے ہیں حالانکہ ریاستی حکومت نے سابق میں جو ترقیات فراہم کی ہیں ان میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں اور اب جبکہ محکمہ اقلیتی بہبود کو ضرورت ہے ایسے وقت میں ٹال مٹول سے کام لیا جا رہاہے ۔م