اقلیتی برادری کے باؤنسرز کا الزام: نورتری منتظمین کی جانب سے بائیکاٹ

,

   

اے آئی ایم آئی ایم کے رہنما اسد الدین اویسی نے کہا کہ اگر پولیس مناسب کارروائی کرے تو اس “زہر” سے بچا جا سکتا ہے۔

حیدرآباد: حیدرآباد میں مسلم باؤنسرز اور سیکیورٹی گارڈز نے الزام لگایا ہے کہ دائیں بازو کی تنظیموں کے دباؤ کے باعث نورتری تقریبات کے منتظمین ان کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔

اکتوبر4 کو باؤنسرز کے ایک گروپ نے، جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل تھے، نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں 2024 سے ڈانڈیا پروگراموں کے منتظمین کی جانب سے مذہبی امتیاز کا سامنا ہے۔

محمد فیروز (جنہیں فضل بھی کہا جاتا ہے) نامی ایک باؤنسر نے بتایا کہ منتظمین کا کہنا ہے کہ انہیں (مسلم باؤنسرز کو) ملازمت پر نہ رکھنے کے لیے غیر ضروری دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا، “اگر ایسا ہے تو منتظمین کو ان لوگوں کے خلاف پولیس سے شکایت کرنی چاہیے جو مذہبی امتیاز کو ہوا دے رہے ہیں۔ ہم پولیس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کرے۔”

فضل نے کہا کہ ڈانڈیا تقریبات میں باؤنسرز کی بھرتی میں امتیاز سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اب ہوٹلوں اور کلبوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کی ملازمت تک پھیل چکا ہے۔

پریس کانفرنس میں موجود ہندو باؤنسرز نے بھی منتظمین پر زور دیا کہ وہ مذہبی بنیادوں پر امتیاز نہ برتیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ پوری برادری کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا درست نہیں ہے، جبکہ دیگر کا کہنا تھا کہ تلنگانہ میں ہندو اور مسلمان پرامن طریقے سے ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں، لیکن کچھ انتہا پسند عناصر مذہبی امتیاز کے ذریعے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسد الدین اویسی کا پولیس سے کارروائی کا مطالبہ
ان خدشات کا نوٹس لیتے ہوئے، آل انڈیا مجلسِ اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم ) کے رہنما اسد الدین اویسی نے کہا کہ اگر پولیس مناسب کارروائی کرے تو اس “زہر” سے بچا جا سکتا ہے۔

انہوں نے ‘ایکس’ پر کہا، “مسلم باؤنسرز اور دیگر کارکنوں نے اطلاع دی ہے کہ منتظمین انتہا پسند تنظیموں کے دباؤ میں آ کر ان کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ اگر پولیس سخت کارروائی کرے تو اس زہر کو روکا جا سکتا ہے۔”

اویسی نے مزید کہا، “اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ تلنگانہ کے عوام کو اس برائی کے خلاف مذہب سے بالاتر ہو کر متحد رہنا چاہیے۔ بصورتِ دیگر، ریاست کی ترقی اور خوشحالی بھی اس کی نذر ہو جائے گی۔”