امداد کے نام پر سیلاب کے متاثرین کی زندگیوں سے کھلواڑ

   

خاتون کی موت کے بعد تقسیم کا کام روکا گیا، ریونت ریڈی اور دیگر قائدین کا الزام
حیدرآباد: کانگریس پارٹی نے حکومت پر سیلاب کے متاثرین کی زندگیوں سے کھلواڑ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ امداد کیلئے گھنٹوں قطار میں انتظار کرتے ہوئے ایک خاتون کی موت کے بعد حکومت ہوش میں آئی اور الیکشن کمیشن نے امدادی رقم کی تقسیم کا کام روک دیا ہے۔ رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی نے کہا کہ امداد کے حصول کے لئے می سیوا سنٹرس پر سینکڑوں کی تعداد میں مرد و خواتین گھنٹوں انتظار کر رہے ہیں۔ صبح سے شام تک عوام کی طویل قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔ گریٹر حیدرآباد انتخابات کے پیش نظر حکومت نے امداد کی تقسیم کا کام جاری رکھا تھا۔ حیدرآباد میں ایک خاتون کی موت واقع ہوگئی اور کئی خواتین زخمی ہوگئیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ امداد کی تقسیم کے سلسلہ میں بڑے پیمانہ پر بے قاعدگیاں کی گئیں ہیں۔ 200 کروڑ سے زائد کی رقم برسر اقتدار پارٹی کے قائدین نے ہڑپ لی۔ انہوں نے امدادی تقسیم میں دھاندلیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ حکیم پیٹ میں می سیوا سنٹر کی طویل قطار میں کھڑی ایک خاتون کی موت واقع ہوگئی اورحکومت کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں کامیابی کے مقصد سے امداد کی تقسیم کا عمل جاری رکھا گیا تھا ۔ اسی دوران اے آئی سی سی ترجمان ڈاکٹر شراون نے کہا کہ انسانی جانوں کی قربانی کے بعد الیکشن کمیشن نے تقسیم کا عمل روک دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا رویہ غیر انسانی ہے اور اس نے بلدی انتخابات کے پیش نظر امداد کی تقسیم کا کام جاری رکھا تھا۔ شراون نے کہا کہ بی جے پی کی شکایت کے بعد الیکشن کمیشن نے یہ کارروائی کی ہے ۔ پردیش کانگریس کے ترجمان جی نرنجن نے حکومت پر انتخابی دھاندلیوں کی تیاری کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عجلت میں انتخابی شیڈول جاری کرتے ہوئے دیگر جماعتوںکو فہرست رائے دہندگان حوالے نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو شکست کا خوف لاحق ہے جس کے نتیجہ میں عجلت میں انتخابات منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ نرنجن نے کہا کہ عوام حکومت کے مقاصد سے اچھی طرح واقف ہیں اور وہ انتخابات میں برسر اقتدار پارٹی کو سبق سکھائیں گے ۔