امریکہ: اسلحہ پروگرام کی مدد کرنے پر درجنوں ادارے بلیک لسٹ

   

واشنگٹن: امریکہ نے پاکستان اور ایران میں ہتھیاروں اور ڈرون ترقیاتی پروگراموں کی مبینہ حمایت کے ساتھ ساتھ یوکرین میں روس کی جنگی کوششوں میں مدد کے دیگر معاملات کیلئے دو درجن سے زائد تجارتی اداروں کو بلیک لسٹ کردیا۔امریکی وزارت کامرس کی طرف سے پیر کے روز جاری بیان کے مطابق، جن 26 کمپنیوں پر پاپبندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں سے زیادہ تر پاکستان، چین، اور متحدہ عرب امارات میں واقع ہیں، جن پر برآمدی کنٹرولز کی خلاف ورزی، ”تشویشناک ہتھیاروں کے پروگراموں‘‘ میں ملوث ہونے، یا روس اور ایران پر امریکی پابندیوں اور برآمدی کنٹرولز سے بچنے کا الزام ہے۔ مبینہ پابندیوں کی فہرست میں ان تجارتی کمپنیوں کا نام شامل کردینے کی وجہ سے یہ حکومت کی اجازت کے بغیر امریکی اشیاء￿ اور ٹیکنالوجیز حاصل نہیں کر سکیں گی۔انڈر سکریٹری برائے صنعت وسلامتی ایلن ایسٹیویز نے ایک بیان میں کہا کہ ہم امریکی قومی سلامتی کو برے عناصر سے بچانے کیلئے چوکس ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے آج کے اقدامات بدنیتی رکھنے والے عناصر کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہیں، تو انہیں اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔”پاکستان میں نو ادارے پہلے سے ہی بلیک لسٹ ہیں۔ ان پر ایڈوانسڈ انجینیئرنگ ریسرچ آرگنائزیشن کی فرنٹ کمپنیاں اور پروکیورمنٹ ایجنٹ ہونے کا الزام ہے۔اس گروپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے سال دو ہزار دس سے اصل صارفین، جن میں کروز میزائل اور اسٹریٹجک ڈرون پروگرام کی تیاری کیلئے ذمہ دار ایک پاکستانی ادارہ بھی شامل ہے، کو راز میں رکھ کر امریکی اشیاء خریدیں۔امریکی وزارت کامرس نے کہا کی تجارتی اداروں کی،”یہ سرگرمیاں امریکہ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے خلاف ہیں۔ چین کے مزید چھ اداروں کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر چین کی عسکری جدید کاری میں مدد کیلئے یا ایران کے ہتھیاروں اور ڈرون پروگراموں میں مدد کیلئے امریکی اشیاء حاصل کیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی تین اور مصر کی ایک کمپنی نے 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد عائد پابندیوں سے بچنے کیلئے امریکی سازوسامان حاصل کیے یا حاصل کرنے کی کوشش کی۔ پیر کو ہی، امریکی محکمہ تجارت نے کینیڈا میں قائم سینڈ وائن کمپنی کو پابندیوں کی فہرست سے ہٹا دیا، جب کمپنی نے اپنی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے نمٹنے جو انسانی حقوق کو نقصان پہنچا سکتی ہے کیلئے اقدامات کیے۔ محکمہ تجارت نے اپنے بیان میں کہا کہ کمپنی کو فروری 2024 میں اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا “جب اس کی مصنوعات کو بڑے پیمانے پر ویب مانیٹرنگ اور سنسر شپ کیلئے استعمال کیا گیا، کمرشل اسپائی ویئر کا غلط استعمال کیا گیا اور انسانی حقوق کے کارکنوں اور مخالفوں کو نشانہ بنایا گیا۔