امریکہ: مہنگائی سے نمٹنے سینکڑوں ارب ڈالر کا پیاکیج

   

واشنگٹن۔ امریکی کانگریس کے منطور شدہ بل میں موسمیاتی تبدیلی اور صحت کی دیکھ بھال کے حوالے سے بڑے اخراجات شامل ہیں۔ یہ قانون سازی صدر جو بائیڈن کے ایجنڈے کے لیے بھی ایک بڑی فتح ہے۔ امریکی ایوان نے 12 اگست جمعہ کے روز مہنگائی پر قابو پانے کے لیے 430 ارب ڈالر کے ایک بڑے مالی بل کو منظور کر لیا، جس کی صدر جو بائیڈن شدت سے حمایت کر رہے تھے۔ اس بل میں صاف آب و ہوا، ٹیکس اور صحت کی دیکھ بھال سے متعلق کئی اہم اقدامات بھی شامل ہیں، اور اسے گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کے لیے اب تک کی سب سے بڑی امریکی سرمایہ کاری بھی کہا جا رہا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ توانائی اور صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات میں کمی کر کے عوام کو کسی طرح مہنگائی سے نجات دی جا سکے۔ صدر جو بائیڈن نے اس بل کی منظوری کے فوری بعد اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ آج امریکی عوام جیت گئے اور خصوصی مفادات کی شکست ہوئی۔ ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے ووٹنگ سے قبل اپنے آخری تبصروں میں کہا کہ یہ قانون سازی، لاگت میں قیمتوں میں کمی کا ایک مضبوط پیکج ہے، جو اس وقت کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہمارے خاندان ترقی کریں اور کرہ ارض بھی محفوظ رہے۔ سینکڑوں ارب ڈالر کے اس بل کو سینیٹ نے بھی منظور کر لیا ہے اور اب اس پر صدر جو بائیڈن کے دستخط ہونے ہیں اور اس طرح یہ جلد ہی باضابطہ قانونی شکل اختیار کر لے گا۔ صدر اس قانون سازی کے حوالے سے ملک کی مختلف ریاستوں کا دورہ بھی کرنے والے ہیں، کیونکہ بڑھتی ہوئی افراط زر کی شرحوں کا وزن اب ڈیموکریٹس کے وسط مدتی انتخابات کے امکانات پر بھی پڑنے والا ہے۔ ری پبلکنز کا کہنا ہے کہ یہ بل حکومتی حدود سے تجاوز ہے اور مہنگائی کو مزید ہوا دے گا۔