امریکہ میں مذہبی اسکولوں کو خصوصی امداد

   

نیویارک : امریکہ کی سپریم کورٹ نے مذہبی اسکولوں کو خصوصی تعلیم کے دائرہ کار میں ریاستی امداد سے خارج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سپریم کورٹ میں 3 کے مقابلے میں 6 ووٹوں کے ساتھ کیے گئے فیصلے میں، عدالت نے ریاستی پروگرام سے مذہبی اسکولوں کو خارج نہ کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ Maine کیپروگرام میں مذہبی آزادیوں سے متعلق آئینی دفعات کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔سونیا سوٹومائیر، ان تین ججوں میں سے ایک جنہوں نے فیصلے کی مخالفت کی۔انہوں نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ عدالت نے چرچ اور ریاست کے درمیان تقسیم کی دیوار کو مسمار کردیا ہے۔دسمبر میں، ریاست مین میں سرکاری اسکولوں یک رسائی حاصل نہ کرنے والے دیہی خاندانوںکونجی اسکول کی ٹیوشن کی لاگت کے دائرہ کار میں لے لیا تھا لیکن اس میں مذہبی اسکول شامل نہیں کیا گیا تھا جس پر عدالتے سے رجوع کیا گیا اور بعد میں یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں چلا گیا تھا۔