ہندومسلم اتحاد، ہم سب ایک ہیں اور انسانیت کے نعرے والی تقریر پر مارکنڈے کٹجو کا دلچسپ تبصرہ
نئی دہلی : 31 اگست (سیاست نیوز) آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے اپنے دورہ امریکہ میں امریکن ہندوز فار انگیجمنٹ اینڈ ڈائلاگ نامی ایک غیر معروف تنظیم کے زیر اہتمام منعقدہ اجلاس سے خطاب میں بڑی بڑی باتیں کی۔ انہوں نے دانشورانہ انداز میں ہندومسلم اتحاد کی بات کتے ہوئے یہاں تک کہا کہ اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ بھارت میں کسی مسلم کو نہیں رہنا چاہئے تو وہ ہندو باقی نہیں رہے گا۔ انہوں نے ایک سکیولر لیڈر کی طرح ہندومسلم اتحاد پر یہ بھی کہا کہ حقیقت میں ہم ایک ہیں۔ موہن بھاگوت نے امریکہ میں اپنا لب ولہجہ، انداز بیان، الفاظ اور جملے سب کے سب بدل کر رکھ دیئے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ خطاب سنگھ پریوار کی سربراہ تنظیم اار ایس ایس کے سربراہ نہیں بلکہ کوئی گاندھیائی لیڈر کا کوئی کمیونسٹ لیڈر کا ہو۔ موہن بھاگوت کے اس خطاب کے بارے میں اگرچہ سماج وادی پارٹی کے رکن راجیہ سبھا و ممتاز قانون داں کپل سبل،کانگریس لیڈران ادت راج، سریندر راجپوت اور ٹی ایم سی لیڈر سوگت رائے نے شاندار تبصرے کئے اور موہن بھاگوت کو ان کی مخصوص سوچ و فکر کے نظریہ اور سنگھ پریوار کے ملک مخالف ایجنڈہ کی یاد دلاتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا لیکن سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کٹجو نے اپنے ایک مضمون میں جو تبصرہ کیا وہ کئی لحاظ سے منفرد رہا۔ مارکنڈے کٹجو اپنے مضمون میں بتاتے ہیں کہ حالیہ دنوں میں نیویارک کے ایک مشہور مرکز میںراشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے پرزور انداز میں کہا کہ اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ بھارت میں کسی مسلمان کو نہیں رہنا چاہئے تو وہ ہندو باقی نہیں رہے گا۔ انہوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مزید کہا کہ ہر انسان کا وقار اس کی اپنی عزت نفس ہوتی ہے اور انسانوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور حقیقت میں دیکھا جائے تو ہم سب (ہندو مسلم ) ایک ہیں۔ مسٹر مارکنڈے کٹجو کے مطابق دیکھنے میں سننے میں اور پڑھنے میں مسٹر بھاگوت کے مذکورہ الفاظ قابل تعریف محسوس ہوتے ہیں لیکن جب ہم ان کی تقریر کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں تو بھاگوت اور آر ایس ایس کی سوچ و فکر، نظریہ اور ایجنڈہ بے نقاب ہوجاتا ہے اور مسائل سامنے آتے ہیں۔ جسٹس (ریٹائرڈ) مارکنڈے کٹجو کے مطابق اصل اہمیت الفاظ کی نہیں بلکہ اقدامات کی ہے اور اقدامات ہی قابل غور ہیں۔ یہ بات بھی ہر کوئی جانتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ کس طرح کا ناروا سلوک روا رکھا جارہا ہے۔
اور خاص طور پر 2014ء میں بی جے پی کے مرکز میں برسر اقتدار آنے کے بعد مسلمانوں کو ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔