امریکہ کا اپنے بحری فوجی جہاز کو متنازعہجزائر سے ہٹانے کا دعوی مسترد

   

واشنگٹن : امریکہ نے جمعرات کو چین کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ اس کی فوج نے ایک امریکی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر ’’یو ایس ایس میلئس‘‘ کو بحیرہ جنوبی چین میں متنازعہ جزائر کے ارد گرد کام کرنے سے ہٹا دیا تھا کیونکہ دونوں طاقتوں کے درمیان خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ امریکی بحریہ کے 7ویں فلیٹ نے کہا کہ چین کی سدرن تھیٹر کمانڈ کا یہ بیان غلط ہے کہ اس نے یو ایس ایس ملیس کو پیراسل جزائر کے آس پاس سمندر سے دورہونے پر مجبور کیا تھا ۔ چین پیراسل جزائر کو ڑیشا کہا جاتا ہے۔ لیفٹیننٹ جے جی لوکا باکک نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ یو ایس ایس میلئس جنوبی بحیرہ چین میں معمول کی کارروائیاں کر رہا ہے اور اسے وہاں سے بے دخل نہیں کیا گیا۔ باکک نے مزید کہا کہ امریکہ بین الاقوامی قانون کی اجازت کے مطابق ہر جگہ سے پرواز، بحری جہازوں کی آمدورفت اوراپنا کام جاری رکھے گا۔ باکک نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا یہ جہاز پیراسل کے قریب ہی کام کر رہا تھا یا کسی قسم کا تصادم ہوا ہے۔پیراسل جزائر ویتنام اور چینی صوبے ہینان کے ساحل سے چند سو کلومیٹرکے فاصلے پر بحیرہ جنوبی چین میں واقع ہیں۔ پیراسل جزائر پر چین کا قبضہ ہے لیکن ان پر تائیوان اور ویتنام بھی دعویٰ کرتے ہیں۔