واشنگٹن: فلسطینی نژاد امریکی ارب پتی کاروباری شخصیت بشار المصری کے خلاف امریکی شہریوں نے واشنگٹن کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل پر حماس کے حملوں کے لیے انفراسٹرکچر فراہم کر کے سہولت کاری کی۔یہ مقدمہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں سے متاثر ہونے والے تقریباً 200 امریکی شہریوں کی جانب سے دائر کیا گیا ہے، جن میں حملے سے بچ جانے والے افراد اور متاثرین کے لواحقین شامل ہیں۔عدالتی دستاویزات کے مطابق بشار المصری کی زیرِ ملکیت غزہ انڈسٹریل اسٹیٹ، دو لگژری ہوٹلز اور دیگر جائیدادوں کے نیچے حماس کی سرنگیں موجود تھیں، جنہیں حملے سے پہلے اور بعد میں استعمال کیا گیا۔ ان جائیدادوں کے اندر سے سرنگوں کے داخلی راستے موجود تھے، جبکہ زمین کے اوپر شمسی توانائی کے پینلز بھی نصب تھے تاکہ سرنگوں کو توانائی فراہم کی جاسکے۔بشار المصری کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ:”یہ مقدمہ جھوٹ پر مبنی اور سیاسی انتقام کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد ایک فلسطینی کاروباری شخصیت کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی شہری پر حماس کی اس قدر بڑی سطح پر مدد کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مقدمے میں الزامات ثابت ہو گئے تو بشار المصری کو سنگین قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو نہ صرف ان کی کاروباری سرگرمیوں بلکہ فلسطینی امریکی برادری پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں