امریکی قونصل خانہ ضرورت مندوں تک انٹرویو سلاٹس پہونچانے میں ناکام

   


ایجنٹس کا اضافی رقم کے ذریعہ سلاٹس دلانے کا لالچ، درخواست گذاروں میں اُلجھن

محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔18۔ڈسمبر۔امریکی قونصل خانہ اپنے انٹرویو سلاٹس کوضرورتمندوں تک پہنچانے میں ناکام ہے اور کورونا وائرس کے بعدامریکی جامعات میں داخلہ حاصل کرنے والوں کے لئے ہونے والی مشکلات میں جو اضافہ ہوا ہے اسے دور کرنے کے متعدد اعلانات کے باوجودملک بھر میں درمیانی افراد و کنسلٹنسیطلبہ کا استحصال کرتے ہوئے ہزاروں روپئے وصول کر رہے ہیں۔امریکی حکام جوویزا کی اجرائی ‘ درخواستوں کے ادخال اور انٹرویو کے لئے وقت کی فراہمی کے معاملہ میں شفافیت کے دعوے کرتے ہیں ان کے دعوؤں میں کس قدر صداقت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہندستان سے محض وہ طلبہ امریکی جامعات میں داخلہ حاصل کرنے کے بعد ویزاکے لئے دیئے جانے والے انٹرویو کے لئے وقت حاصل کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں جو کہ انٹرویو کے حصول کے لئے اضافی ہزاروں روپئے اد اکرسکتے ہیں۔ ہندستانی طلبہ بالخصوص شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے وہ طلبہ جو کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے بعد امریکی جامعات میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ان کی بڑی تعداد اب تک بھی ویزا انٹرویو کے لئے وقت حاصل کرنے کی منتظر ہے جبکہ ہندستان بھر میں کئی ایجنٹس 15ہزار تا2لاکھ روپے وصول کرتے ہوئے ویزادرخواست گذاروں کو انٹرویو کا وقت دلوانے میں کامیاب ہورہے ہیں۔ امریکی حکام متعدد مرتبہ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمندو ںکو ایجنٹس کا شکار نہ ہونے اور اپنے طور پر تحقیق کرتے ہوئے جامعات میں داخلہ حاصل کرنے کے علاوہ DS-160 فارم پرکرتے ہوئے انٹرویو کے لئے وقت حاصل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن اب جبکہ طلبہ میں شعور اجاگر ہوچکا ہے اور وہ آن لائن اپنی مدد آپ کے نظریہ سے کوشش کرنے لگے ہیں تو ایسی صورت میں داخلہ حاصل کرنے اور ویزافیس جمع کروانے تک انہیں کوئی مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑرہا ہے لیکن جب ویزاانٹرویو کے لئے وقت حاصل کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو انہیں آن لائن کوشش کرنے کے بعد در بہ در کی ٹھوکریں کھانی پڑرہی ہیں اور بعض ایجنٹس طلبہ کا استحصال کرتے ہوئے من مانی رقومات وصول کر رہے ہیں۔ تحقیقات کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ امریکی قونصل خانہ و سفارتخانہ کی جانب سے انٹرویو سلاٹس کی اجرائی کے ساتھ ہی ایجنٹس اپنی چالبازیوں اور تکنیکی خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طلبہ کے لئے جاری کئے جانے والے ان سلاٹس کو محفوظ کرنے لگے ہیں اور جو لوگ ہزاروں روپئے ادا کررہے ہیں انہیں یہ سلاٹس جاری کئے جارہے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے کئی اضلاع اور ملک کی مختلف ریاستوں سے اس بات کی شکایات موصول ہورہی ہیں کہ طلبہ جو راست کوشش کر رہے ہیں انہیں انٹرویوسلاٹس دستیاب نہیں ہیں اور مسلسل کوشش اور انتظار کے باوجود وہ انٹرویو کے لئے وقت حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ہندستان میں موجود سفارتخانہ یا قونصل خانوں میں صرف F1ویزوں کے لئے انٹرویو کئے جا رہے ہیں اور بعض دیگر ناگزیر وجوہات کی بناء پر سفر کرنے کے خواہشمندوں کے لئے ویزوں کا عمل جاری ہے اس کے باوجود طلبہ کو انٹرویو کے لئے وقت نہ ملنے پر سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل ظاہرکیا جا رہاہے۔ سکندرآباد علاقہ میں موجود ایک کنسلٹنسی میں خدمات انجام دینے والے شخص نے گذشتہ 3ماہ سے ویزاانٹرویو کے لئے منتظر طالب علم کو بات چیت کے دوران کہا کہ اگر انہیں مارچ سے فروری سے قبل حیدرآباد قونصل خانہ میں انٹرویو کے لئے وقت چاہئے تو ایسی صورت میں 2لاکھ روپئے ادا کرنے ہوں گے اور اگر وہ ملک کے کسی اور قونصل خانہ سے انٹرویو دینے کے لئے آمادہ ہیں تو انہیں 50تا65 ہزار روپئے ادا کرنے پر وہ انٹرویو کے لئے وقت دلواسکتا ہے ۔ علاوہ ازیں کسیشہر میں OFC یعنی آف سائٹ فیلسٹیشن سنٹر اور کسی اور قونصل خانہ میں VAC یعنی ویزا ایپلیکشن سنٹر کا وقت حاصل کرنا ہے تو 30تا35 ہزار میں وقت دلوایا جائے گا۔ اسی طرح دلسکھ نگر میں خدمات انجام دینے والی ایک کنسلٹنسی کے ذمہ دار نے بتایا کہ طلبہ کی بڑی تعداد میں درخواستوں کے سبب یہ صورتحال پیدا ہورہی ہے اور جن طلبہ نے امریکی جامعات میں داخلہ حاصل کرلیا ہے وہ مجبوری میں لاکھوں روپئے ادا کر رہے ہیں۔ امریکی ویزا انٹرویو کے لئے اپنے طور پر کوشش کے دوران ناکام ہونے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں متعلقہ کال سنٹر اور مددگار سے مسلسل رابطہ قائم کررہے ہیں لیکن انہیں یہی کہا جا رہاہے کہ وہ cgifedralکی ویب سائٹ کا مشاہدہ کرتے رہیں تاکہ انہیں دستیاب وقت حاصل ہوسکے لیکن بیشتر درخواست گذاروں کے لئے کیلینڈر میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی جا رہی ہے اور وہی درخواست گذار جب ایجنٹس سے رجوع ہورہے ہیں تو انہیں OFC اور VFCکے لئے وقت مل رہا ہے جس کے سبب شفافیت مشتبہ ہونے لگی ہے۔ طلبہ اگر متعدد مرتبہ وقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسی صورت میں ان کے اکاؤنٹ کو 72گھنٹے کے لئے بلاک کردیا جاتا ہے جبکہ بعض ویب سائٹس ویزا انٹرویو کے لئے دستیاب سلاٹس کی تفصیلات کے متعلق ای۔میل الرٹ کے لئے بھاری رقومات بھی وصول کر رہے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان سلاٹس کے متعلق درخواست گذاروں سے قبل کسی اور کو پتہ چلنے لگا ہے جس کی وجہ سے مستحق درخواست گذار محروم ہورہے ہیں۔