امیگریشن میں لاپرواہی پر ایئر انڈیا کا ملازم معطل

   

بغیر جانچ کے اٹلی کے تین مسافر روانہ ‘ وزارت شہری ہوابازی کا سخت موقف

نئی دہلی ۔22؍ستمبر( ایجنسیز )شہری ہوا بازی کے وزیر رام موہن نائیڈو نے ایئر انڈیا کے ’ہَب اینڈ اسپوک‘ امیگریشن عمل میں لاپرواہی پر سخت کارروائی کی ہے۔ غلطی سامنے آنے کے بعد ایئر انڈیا کے ایک ملازم کو معطل کر دیا گیا ہے۔ تحقیقات میں پایا گیا کہ ملازم نے مسافروں کو طے شدہ راستے سے نہیں جانے دیا جس کی وجہ سے ایئرپورٹ کی سیکورٹی میں غفلت ہوئی۔ رام موہن نائیڈو نے واضح طور پر کہا کہ ایئرپورٹ کی سیکورٹی سے کسی بھی طرح کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔واضح رہے کہ یہ پورا معاملہ 3 اٹلی کے شہریوں سے متعلق ہے۔ تینوں 4 ستمبر کو امرتسر سے دہلی آئے اور بغیر کسی امیگریشن جانچ کے دہلی ایئرپورٹ سے میونخ چلے گئے۔ اس کے بعد مرکزی شہری ہوا بازی کی وزارت (ایم او سی اے) نے 12 ستمبر کو ایئر انڈیا کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا تھا۔ ساتھ ہی 14 ستمبر کو داخلہ سکریٹری گووند موہن کی صدارت میں میٹنگ بلائی گئی تھی۔رپورٹس کے مطابق 3 اٹلی کے مسافر 4 ستمبر کی رات تقریباً 12.50 بجے امرتسر سے ایئر انڈیا کی پرواز سے دہلی پہنچے تھے۔ پھر 1.45 بجے وہ لفتھانسا کی پرواز میں سوار ہو کر میونخ چلے گئے۔ تینوں ہَب اینڈ اسپوک ماڈل کے تحت سفر کر رہے تھے۔ اس کے تحت گھریلو اور بین الاقوامی سفر کی بنیاد پر الگ الگ عمل سے گزرنا ہوتا ہے لیکن اس معاملے میں طے شدہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے مسافر ضروری امیگریشن جانچ کے بغیر ہی بین الاقوامی روانگی کے علاقے (انٹرنیشنل ڈیپارچر ایریا) تک پہنچ گئے اور پرواز میں سوار ہو گئے۔