انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبہ میں سرگرمیوں کا دوبارہ اضافہ

   


ملازمتوں کی فراہمی میں بنگلور سرفہرست ، حیدرآباد کو دوسرا مقام
حیدرآباد۔ کورنا وائرس لاک ڈاؤن کے بعد ملک بھر میں انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبہ میں دوبارہ سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جانے لگا ہے جبکہ آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے اب بھی گھر سے کام کاج کی ہی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے بعد اب دوبارہ ملازمتوں کی فراہمی کا عمل شروع کیا جا چکا ہے اور جنوری 2021 کے بعد فروری میں بھی کئی کمپنیوں کی جانب سے نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی کے لئے انٹرویوز منعقد کرنے کے علاوہ انہیں ملازمتوں کی فراہمی کے احکامات حوالہ کئے گئے ہیں۔ انفارمیشن ٹکنالوجی سے وابستہ ماہرین کا کہناہے کہ ایک سال بعد شعبہ میں اچھی خبریں سننے کو مل رہی ہیں کیونکہ انفارمیشن ٹکنالوجی ایسا شعبہ رہا ہے جس میں مسلسل ملازمتوں کی فراہمی کا عمل جاری رہا کرتا تھا لیکن ایک سال کے دوران ملازمتوں میں تخفیف کی اطلاعات نے شعبہ میں خدمات انجام دینے والوں کی نیند حرام کردی تھی تاہم اب دوبارہ شعبہ میں ملازمتوں کے حصول کے خواہشمندوں کے ساتھ ساتھ کمپنیوں کی جانب سے ملازمتوں کی فراہمی کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں جو کہ حوصلہ افزاء ہیں۔ ملک بھر میں جو ملازمتوں کی فراہمی عمل میں آئی ہے ان میں شہر حیدرآباد دوسرے نمبر پر ہے جہاں نوجوانوں کو ملازمتیں حاصل ہونے لگی ہیں۔ ملک بھر میں بنگلورو سرفہرست ہے جہاں ملازمتیں حاصل ہورہی ہیں۔گذشتہ دو ماہ کے دوران فراہم کی جانے والی ملازمتوں کے سلسلہ جاری کردہ رپور ٹ میں کہا گیا ہے کہ دو ماہ کے دوران جو ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں ان میں 31 فیصد ملازمتوں کی فراہمی بنگلورو میں عمل میں آئی ہیں جبکہ حیدرآباد میں 28فیصد ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں۔پونے میں 24 فیصد ملازمتوں کی فراہمی عمل میں لائی گئی ہے جبکہ بروڈہ میں 20 فیصد ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ ماہ فروری کے دوران انفارمیشن ٹکنالوجی شعبہ میں مختلف کمپنیوں کی جانب سے 2356 ملازمتوں کی فراہمی عمل میں لائی گئی ہیں اور ان ملازمتوں کی فراہمی کو شعبہ میں نئے اچھال سے تعبیر کیا جا رہاہے۔ سروے رپورٹ کے مطابق ماہ جنوری کے دوران صرف1925 ملازمتوں کی فراہمی عمل میں لائی گئی تھی لیکن اس میں اندرون ایک ماہ زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق جن نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی عمل میں لائی جا رہی ہیں انہیں بھی گھر سے ہی کام کرنے کے علاوہ دیگر مراعات کی فراہمی کے بھی اقدامات کئے جار ہے ہیں۔