2018 یوایس اوپن،2019 آسٹریلین اوپن،2020 یوایس اوپن، 2021 آسٹریلین اوپن
میلبورن ۔توقعات کے مطابق جاپان کی ٹینس اسٹار ناومی اوساکا اپنا دبدبہ برقرار رکھتے ہوئے امریکہ کی جنیفر براڈی کو راست سٹوں میں 6-4، 6-3 سے شکست دے کر سال کے پہلے گرانڈ سلام آسٹریلین اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے خواتین زمرے کا سنگلز خطاب جیت لیا۔یہ اوساکا کا چوتھا گرانڈ سلام خطاب ہے ۔ اوساکا نے دوسری مرتبہ آسٹریلین اوپن خطاب اپنے نام کیا ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے 2019 میں بھی آسٹریلین اوپن کا خطاب جیتا تھا۔ اوساکا نے2018 اور2020 میں یو ایس اوپن خطابات جیتے ہیں ۔تیسری سیڈ اوساکا نے 22 ویں سیڈ براڈی کو ایک گھنٹہ 17 منٹ میں شکست دی۔میچ کے آغاز میں براڈی کی جانب سے کچھ چیلنج ملنے کے بعد اوساکا نے پہلے سٹ اور دوسرے سٹ کے درمیان لگاتار چھ گیمس اپنے نام کئے ۔ اوساکا نے دوسرے سیٹ میں 4-0 کی برتری حاصل کرنے کے بعد امریکی کھلاڑی کو واپسی کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا۔ اس کامیابی کے ساتھ اوساکا نے اپنی فتوحات کا سلسلہ21 مقابلوں تک پہنچادیا ہے ۔اوساکا نے میچ میں براڈی کی سروس کو چار مرتبہ توڑا اور دو مرتبہ اپنی سروس گنوائی۔ اوساکا نے میچ میں 16 ونرس لگائے ۔ براڈی نے میچ میں15 ونرس لگائے لیکن چار دوہری غلطیاں کی اور ساتھ ہی31 ازخود غلطیاں کیں۔ اوساکا کے ریکٹ سے 24 ازخود غلطیاں ہوئیں۔ پہلی سروس پر اوساکا نے73 فیصد نشانات حاصل کئے اور میچ میں ان کی پہلی سروس نے ہی سارا فرق پیداکیا۔یادر رہے کہ اوسکا نے سیمی فائنل میں عظیم امریکی کھلاڑی سرینا ولیمس کو راست سٹوں میں شکست دی تھی جس کے بعد فائنل میں انکی کامیابی کی امید کی جارہی تھی ۔اوسکا نے فائنل میں فتوحات کے اپنے صدفیصد ریکارڈ کو برقرار رکھا ہے جیسا کہ انہوں نے یوایس اوپن میں گزشتہ برس فائنل میں پہلے سٹ گنوانے کے بعد حریف وکٹوریہ آزرنینکا کو شکست دی تھی ۔ماہرین نے پہلے ہی اوساکا کی کامیابی کی پیش قیاسی کردی تھی اور انہوں نے اپنے مظاہروں کے ذریعہ اسے درست ثابت کردیا ۔ فائنل میں انکی حریف براڈی پہلی مرتبہ گرانڈ سلام کا خطابی مقابلہ کھیل رہی تھی اور فائنل کا دباؤ ان پر دیکھا گیا اور وہ اس دباؤ کے تحت اپنا بہتر کھیل پیش کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی ۔ کامیابی کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے اوسکا نے کہا کہ وہ اس کامیابی سے مطمین ہیں اور امید کرتی ہیں کہ وہ مزید فتوحات حاصل کریں گی۔23 سالہ اوساکا فرنچ اور ومبلڈن خطاب سے ہنوز دور ہیں۔