اولڈ سٹی میٹرو الائنمنٹ میں بڑی تبدیلیاں ، لاگت میں کمی کیلئے نیا ڈیزائن

   

تاریخی عمارتوں کا تحفظ ، جائیدادوں کے حصول کے بعد نیا نقشہ ، GC ٹنڈرس کی تاریخ میں 8 اکٹوبر تک توسیع
حیدرآباد ۔ 28 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز) : حیدرآباد کے پرانے شہر میں مجوزہ میٹرو ریل کوریڈور ۔ 6 ( ایم جی بی ایس تا چندرائن گٹہ ) کے پراجکٹ میں ایک انتہائی اہم پیشرفت سامنے آئی ہے ۔ حیدرآباد میٹرو ریل کارپوریشن نے میٹرو کے پرانے ڈیزائن اور الائنمنٹ میں معقول تبدیلیاں اور اصلاحات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ماضی میں جن علاقوں میں جائیدادوں کا حصول ناگزیر اور انتہائی مشکل سمجھا جارہا تھا ۔ حال ہی میں میٹرو حکام نے جائیداد کے مالکین کے ساتھ کامیاب مذاکرات کرتے ہوئے زمینوں کو حاصل کرلیا ہے ۔ جائیدادیں موصول ہونے کے بعد پرانے ڈیزائن کے مطابق موڑ ۔ کونوں اور روڈ ڈیوائیڈرس پر بنائے جانے والے 30 سے زائد پورٹل ڈیزائن کے ستونوں ( Portal Pillars ) کی اب ضرورت باقی نہیں رہی ہے ۔ اے ایم آر ایل نے کم لاگت میں الائمنٹ کو دوبارہ بہتر بنانے کے لیے ٹنڈر جاری کرتے ہوئے مہر بند کوٹیشنس طلب کئے ہیں ۔ ٹنڈر حاصل کرنے والی ایجنسی کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ میٹرو کی تعمیر میں استعمال ہونے والے ستونوں کی تعداد ممکنہ حد تک کم کریں ۔ میٹرو کوریڈور کی سنٹرل لائن کو موجودہ سڑک کی سنٹرل لائن سے زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ بنانے اور روٹ پر موجود تاریخی و حساس عمارتوں کو کسی بھی قسم کے نقصان سے بچانے کے لیے موزوں متبادل نقشے فراہم کرے ۔ اسی دوران پرانے شہر سمیت شہر کے 4 نئے میٹرو راہداریوں کے لیے جنرل کنسلٹنسی کے ٹنڈرس جمع کرانے کی آخری تاریخ جو پہلے 24 ستمبر مقرر تھی کو بڑھاکر 18 اکٹوبر کردیا گیا ہے ۔ اولڈ سٹی میٹرو پراجکٹ کی مجموعی پیشرفت اور تکنیکی تفصیلات کے مطابق اس راہداری کا جملہ فاصلہ 7.5 کلو میٹر ہے جب کہ اس کی تخمینی لاگت 2935 کروڑ روپئے مقرر کی گئی ہے ۔ روٹ ایم جی بی ایس سے شروع ہو کر چندرائن گٹہ پر اختتام پذیر ہوگی ۔ جس میں مجموعی طور پر 6 میٹرو اسٹیشنس تعمیر کئے جائیں گے ۔ مجوزہ اسٹیشنس میں سالار جنگ میوزیم ، چارمینار ، شاہ علی بنڈہ ، علی آباد ، فلک نما اور چندرائن گٹہ شامل ہیں ۔ جب کہ دو اسٹیشنس کے درمیان اوسط فاصلہ 1.2 کلو میٹر رکھا گیا ہے ۔ اس نئے ڈیزائن سے پراجکٹ کی لاگت میں نمایاں کمی اور تعمیراتی کاموں میں تیزی آنے کی امید ہے ۔۔ 2/m/b