6 وزارتی نشستوں کیلئے کئی دعویدار، اقلیتی وزیر کی شمولیت یقینی، بعض وزراء کی علیحدگی اور قلمدانوں میں تبدیلی پر غور
حیدرآباد 23 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ کابینہ میں توسیع کے لئے اسمبلی بجٹ اجلاس کے بعد سرگرمیوں میں تیزی کا امکان ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کانگریس ہائی کمان نے اِس بات کا اشارہ دیا ہے کہ طویل عرصہ سے زیرالتواء کابینہ میں توسیع کو بجٹ سیشن کے بعد منظوری دی جائے گی اور اُگادی تہوار کے بعد وزراء کی حلف برداری کا امکان ہے۔ کابینہ میں شمولیت کے سلسلہ میں جن ارکان اسمبلی سے ہائی کمان اور چیف منسٹر نے وعدہ کیا تھا اُن کی بے چینی میں اضافہ ہوچکا ہے۔ اسمبلی انتخابات کے موقع پر ہائی کمان نے 3 قائدین سے وعدہ کیا تھا کہ اُنھیں کابینہ میں شامل کیا جائے گا لیکن کابینہ کی تشکیل کے موقع پر اُنھیں نظرانداز کردیا گیا اور وقفہ وقفہ سے یہ تسلی دی جارہی ہے کہ توسیع میں اُنھیں شامل کیا جاسکتا ہے۔ اِس کے علاوہ ایسے اضلاع اور طبقات جن کی کابینہ میں نمائندگی نہیں ہے اُن سے تعلق رکھنے والے قائدین بھی حیدرآباد سے دہلی تک اپنی سرگرمیوں کو تیز کرچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ہائی کمان سے ملاقات کا وقت مانگا ہے اور بجٹ اجلاس کے اختتام کے بعد وہ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور تلنگانہ کی نئی انچارج میناکشی نٹراجن کے ساتھ راہول گاندھی اور ملکارجن کھرگے سے ملاقات کریں گے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کانگریس ہائی کمان کابینہ میں توسیع کے بجائے ردوبدل پر غور کررہا ہے۔ گزشتہ دیڑھ سال کے دوران وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اُنھیں برقرار رکھنے یا کابینہ سے علیحدہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائی کمان بعض وزراء کو کابینہ سے علیحدگی کرنے اور بعض وزراء کے قلمدانوں میں تبدیلی کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اب جبکہ بجٹ سیشن کے اختتام کو محض 4 دن باقی ہیں، کابینہ میں شمولیت کے لئے خواہشمند ارکان کی بے چینی میں اضافہ ہوچکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سماجی انصاف کے تحت کابینہ کی مخلوعہ 6 نشستوں میں ایس سی، ایس ٹی، بی سی، مسلم اقلیت، خواتین اور اعلیٰ طبقات کو نمائندگی دی جائے گی۔ کابینہ میں پہلے سے خاتون وزراء کی تعداد 2 ہے اور تیسری شمولیت سے یہ تعداد بڑھ کر 3 ہوجائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی مزید کسی خاتون کی شمولیت کے بجائے او بی سی طبقات کو نمائندگی کے حق میں ہیں۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کا ماننا ہے کہ ہائی کمان تمام 6 مخلوعہ وزارتوں کو پُر کرنے کے بجائے 4 کو پُر کرنے کی اجازت دے سکتا ہے اور 2 وزارتوں کو بعد میں پُر کیا جائے گا۔ کابینہ میں شمولیت کے لئے جو ارکان اسمبلی زیادہ پُرامید ہیں اُن میں کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی اور آنجہانی پی وینکٹ سوامی کے فرزند جی ونود شامل ہیں۔
اِن دونوں سے ہائی کمان نے کابینہ میں شمولیت کا وعدہ کیا تھا۔ چیف منسٹر نے اپنے قریبی ارکان اسمبلی کی فہرست پہلے ہی ہائی کمان کو پیش کردی ہے لیکن ہائی کمان کا جھکاؤ چیف منسٹر کی فہرست کی جانب کچھ زیادہ دکھائی نہیں دیتا۔ کابینہ کی 6 نشستوں میں اِس مرتبہ قانون ساز کونسل سے نمائندگی یقینی دکھائی دیتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چونکہ اسمبلی میں کانگریس سے مسلم نمائندگی نہیں ہے لہذا کونسل میں موجود واحد نمائندہ عامر علی خاں کی شمولیت پر ہائی کمان غور کررہا ہے۔ اِسی دوران کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی نے اُمید ظاہر کی کہ اُگادی کے بعد کابینہ میں توسیع ہوگی اور شمولیت کے خواہشمندوں کے اچھے دن آئیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ نئے اور پرانے وزراء کو ساتھ ملکر کام کرتے ہوئے عوام کی بھلائی اور ریاست کی ترقی کو یقینی بنانا چاہئے۔ راجگوپال ریڈی شمولیت کے بعد وزارت داخلہ کے خواہشمند ہیں۔ کابینہ میں اُن کے بھائی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی پہلے ہی سے موجود ہیں جس کے نتیجہ میں ایک ہی خاندان سے دو بھائیوں کی شمولیت کا فیصلہ ہائی کمان کے لئے آسان نہیں ہوگا۔ کانگریس کے سینئر رکن اسمبلی سدرشن ریڈی جو ضلع نظام آباد سے نمائندگی کے مضبوط دعویدار ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں کابینہ میں توسیع ممکن ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہائی کمان اُنھیں جو بھی قلمدان دے گا وہ اُسے بحسن خوبی ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔ گریٹر حیدرآباد اور ضلع رنگاریڈی سے کابینہ میں کوئی نمائندگی نہیں ہے لہذا ابراہیم پٹنم کے رکن اسمبلی مال ریڈی رنگاریڈی کابینہ میں شمولیت کے لئے مضبوط دعویدار ہیں۔ متحدہ رنگاریڈی اور حیدرآباد اضلاع سے وہ کابینہ میں شمولیت کے لئے مساعی کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اُنھیں اسمبلی میں گورنمنٹ چیف وہپ کے عہدہ کا پیشکش کیا جو کابینہ درجہ کے برابر ہوتا ہے لیکن رنگاریڈی نے اِس تجویز کو مسترد کردیا اور کابینہ میں شامل کئے جانے کے لئے اصرار کررہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ بجٹ سیشن کے اختتام کے بعد کابینہ میں توسیع کی سرگرمیاں کیا رنگ لائیں گی۔ 1