نئی دہلی، 22 جولائی (یواین آئی) نیشنل ایلیجیبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پیپر لیک اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے احتجاج میں اپوزیشن جماعتوں کے ہنگامے کے باعث بدھ کے روز بھی لوک سبھا میں وقفہ سوالات اور وقفہ صفر نہ ہو سکا اور ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔دو بار التوا کے بعد کارروائی دو بجے شروع ہوتے ہی اپوزیشن اراکین ہنگامہ کرنے لگے ۔ پریذائیڈنگ آفیسر کرشنا پرساد تینیٹی نے اراکین سے اپنی اپنی نشستوں پر جانے اور ایوان کو چلانے میں تعاون کرنے کی درخواست کی لیکن ہنگامہ جاری رہا ۔ اس سے قبل صبح 11 بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی کانگریس اور کچھ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے ان مسائل پر ہنگامہ آرائی شروع کر دی جس سے کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی۔
دوپہر 12 بجے ایوان کا اجلاس دوبارہ شروع ہوتے ہی اپوزیشن جماعتیں ہنگامہ کرنے لگیں اور کچھ اراکین ایوان کے وسط میں آ گئے ۔ کئی اپوزیشن اراکین نیٹ کی مخالفت میں نعرے لکھی تختیاں لیے ہوئے تھے ۔ کانگریس اراکین احتجاجاً کالے کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔ اس دوران، مسٹر برلا نے کانگریس کے کے سی وینوگوپال کو بولنے کی اجازت دی۔ مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ جس طریقے سے اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ کے ساتھ پولیس سلوک کر رہی ہے ، وہ انتہائی نا مناسب ہے ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ وزیر تعلیم استعفیٰ دیں، جس کے بعد ایوان میں پیپر لیک کے معاملے پر تفصیلی بحث کرائی جائے ۔ اگر حکومت ان کا مطالبہ تسلیم کرتی ہے تو وہ بحث کے لیے تیار ہیں۔اس کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو نے کہا کہ حکومت نیٹ پیپر لیک کے معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے ۔ بحث کس قانون کے تحت ہوگی اور کتنی دیر ہونی چاہیے ، اس کا فیصلہ بات چیت میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کے لیے با معنیٰ بحث ہو، اس کے لیے حکومت تیار ہے ۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے اکھیلیش یادو نے کہا کہ پیپر لیک کا معاملہ کانگریس، بھارتیہ جنتا پارٹی یا ایس پی کا نہیں ہے ، یہ تمام لوگوں سے جڑا مسئلہ ہے ۔ اس کے لیے تمام سیاسی جماعتیں لڑ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، “طلبہ کے ساتھ پولیس نے بربریت کی، بیٹیوں کے کپڑے پھاڑے گئے ۔