کنزیومر ڈسپیوٹ کمیشن کا فیصلہ، متوفی مریض کے افراد خاندان کی شکایت پر کارروائی
حیدرآباد۔ 13 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ کنزیومر ڈسپیوٹس ریڈریسل کمیشن نے اپولو ہاسپٹل انٹرپرائزیس لمیٹیڈ جوبلی ہلز کا حکام کو 2013 میں قلب پر حملے سے فوت ہونے والے 53 سالہ شخص کے پسماندگان کو 43 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کمیشن نے پایا کہ ہاسپٹل کی لاپرواہی اور علاج میں تساہل کے نتیجہ میں مریض کی موت واقع ہوئی ہے۔ متوفی کی اہلیہ فرزند اور دختر کی جانب سے ہاسپٹل کے خلاف درخواست دائر کی گئی جس میں ایک کروڑ روپے معاوضے کا مطالبہ کیا گیا۔ کمیشن نے اپولو ہاسپٹل کو طبی طور پر علاج میں تساہل پر بطور معاوضہ 4011876 روپے ادا کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ دیگر کوتاہیوں پر ایک لاکھ روپے، میڈیکل ریکارڈ کے ناقص مینٹیننس پر ایک لاکھ روپے اور قانونی اخراجات کے طور پر 25 ہزار روپے ادا کرنے کی ہدایت دی۔ مجموعی طور پر جملہ 43.37 لاکھ روپے ادا کرنے کی ہدایت دی گئی جس میں سود علیحدہ رہے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ وارثی گوڑہ کے ساکن این دیویندر راؤ کو 22 مارچ 2013 کے دن گھر میں قلب کا حملہ ہوا۔ افراد خاندان نے سکندرآباد برانچ کے اپولو ہاسپٹل میں منتقل کیا۔ شکایت کے مطابق ہاسپٹل اسٹاف نے کہا کہ امراض قلب کے ڈاکٹر دستیاب نہیں ہیں لہذا انہیں جوبلی ہلز برانچ منتقل کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ کمیشن کے مطابق کہ منتقلی کے دوران مریض کے علاج کا قیمتی وقت ضائع ہوگیا۔ سنگین قلب پر حملے کی صورت میں ابتدائی 60 منٹ میں فوری علاج کے ذریعہ زندگی کو بچایا جاسکتا ہے۔ ہاسپٹل کے ڈرگ چارٹ کے مطابق مریض کو قلب پر حملے کے کئی گھنٹوں بعد شام 7:13 بجے پہلی دوا دی گئی۔ کمیشن نے کہا کہ اپولو ہاسپٹل کے حکام انتہائی سنگین مرحلے میں مریض کے علاج میں ناکام رہے۔ کمیشن نے مختلف ریکارڈس میں علیحدہ وقت درج کرنے پر بھی سوال اٹھائے۔ افراد خاندان کے مطابق وہ دوپہر 1:30 تا 2 بجے کے درمیان ہاسپٹل پہنچے لیکن ہاسپٹل نے ریکارڈ میں 3:15 وقت درج کیا۔ ہاسپٹل کے بلزس میں شام 4 بجے سکندرآباد برانچ میں مختلف ٹسٹ کرنے کا ذکر کیا گیا جبکہ جوبلی ہلز برانچ میں مریض کے 6:45 بجے شریک کرنے کا ریکارڈ درج کیا گیا۔ اڈمیشن کے درج کردہ وقت سے پہلے ہی ریکارڈ م یں نرسنگ انٹری موجود ہے۔ مکمل طبی ریکارڈ میں نقائص کی کمیشن نے نشاندہی کی۔ ہاسپٹل کی جانب سے کئی اہم ریکارڈس کمیشن میں جمع نہیں کئے گئے۔ ہاسپٹل حکام نے کہا کہ مریض چونکہ شوگر اور گردے کے عارضے کا شکار ہیں اور سابق میں بھی قلب پر حملے کا ریکارڈ ہے لہذا کلاٹ بسٹنگ ٹریٹمنٹ نہیں دیا جاسکا۔ کمیشن نے ہاسپٹل کی وضاحت کو مسترد کردیا اور معاوضے کی ادائیگی کا حکم دیا۔ اپولو ہاسپٹل کو ادائیگی کے لئے احکامات کی وصولی کے بعد 30 دن کی مہلت دی گئی ہے اور مقررہ وقت میں عدم ادائیگی پر سالانہ 9 فیصد سود ادا کرنا ہوگا۔ 1؍F