ای ڈی کا نشانہ کانگریس کے قائدین ،شیوکمار کا الزام

   

بنگلورو، 11 ستمبر (یو این آئی) کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے جمعہ کو الزام عائد کیا کہ وزیر تعمیرات عامہ ستیش جارکی ہولی اور ان کے رشتہ داروں کے ٹھکانوں پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے کی گئی تلاشی سیاسی محرکات پر مبنی ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیاں منتخب طور پر کانگریس کے رہنماؤں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔شیوکمار نے کہاکہ ”یہ ایک سیاسی پیش رفت ہے ۔ کانگریس پارٹی کے رہنماؤں اور اپوزیشن کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔” انہوں نے مزید کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ مزید تین یا چار افراد کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔شیوکمار نے بتایا کہ انہوں نے جارکی ہولی کو یقین دلایا ہے کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا اور وہ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کاروبار کررہے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ منی لانڈرنگ اور غیر ملکی کھاتوں میں رقم منتقل کرنے کے الزامات کے باوجود بی جے پی کے رہنماؤں کے خلاف مبینہ طور پر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ”تحقیقاتی ایجنسیوں کی کارروائی صرف کانگریس کے رہنماؤں کے خلاف کی جارہی ہے ۔”دریں اثنا، جارکی ہولی نے ای ڈی پر الزام عائد کیا کہ وہ ”چھوٹی مچھلیوں” کو نشانہ بنا رہی ہے جبکہ ”بڑی مچھلیوں” کو چھوڑ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلاشی کے دوران برآمد ہونے والی نقد رقم ان کے خاندان کی تھی اور اسے واپس حاصل کرنے کیلئے قانونی کارروائی جاری ہے ۔جارکی ہولی نے کہاکہ ”یہ ای ڈی کا چھاپہ نہیں بلکہ معائنہ ہے ۔ اگر کوئی شبہ تھا تو نوٹس جاری کرکے معلومات طلب کی جاسکتی تھیں۔” انہوں نے کہا کہ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے حکام کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے ۔وزیر نے بتایا کہ سات سے آٹھ مقامات پر تلاشی لی گئی اور ای ڈی نے بیرون ملک سرمایہ کاری سے متعلق تفصیلات طلب کی ہیں۔ ان کے مطابق نوٹس میں فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ (ایف ای ایم اے ) کی دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے اور سرمایہ کاری کا معاملہ ابھی قانونی عمل کے تحت ہے ۔جارکی ہولی نے کہاکہ ”اس تلاشی کے پیچھے سیاسی بو آ رہی ہے ۔
چھوٹی مچھلیوں کو پکڑا جارہا ہے جبکہ بڑی مچھلیوں کو چھوڑا جارہا ہے ۔ ہم سے چھوٹی غلطیاں ہوسکتی ہیں، لیکن بی جے پی میں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس سے بڑی غلطیاں کی ہیں۔”دریں اثنا، شیوکمار نے اعلان کیا کہ کرناٹک اسمبلی 21 سے 23 ستمبر تک تین روزہ خصوصی اجلاس منعقد کرے گی، جس میں کستوریرنگن رپورٹ اور مغربی گھاٹ سے متعلق مسائل پر بحث کی جائے گی۔