ممبئی۔25 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) این سی پی کے یوتھ ونگ کے کارندوں نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے دفتر کے باہر چہارشنبہ کے دان احتجاج کیا اور پارٹی کے سربراہ شردپوار اور دیگر لوگوں کے خلاف ایم ایس سی پی بینک اسکام کے سلسلے میں ناجائز سرمایہ کاری کا کیس درج کرنے کی مذمت کی۔ پولیس نے بتایا کہ اس نے بعدازاں این سی پی کے 5 جہدکاروں کو حراست میں لے لیا۔ این سی پی کے یوتھ ونگ کے نوجوان اس کے ریاستی یونٹ کے صدر محبوب شیخ کی قیادت میں احتجاج کررہے تھے۔ شیخ نے بتایا کہ پارٹی کے احتجاج کرنے والے ارکان کو پولیس نے لاٹھیوں سے مارا پیٹا۔ انہوں نے کہا کہ ای ڈی نے پوار کے خلاف کیس درج کیا ہے اور یہ سب کچھ پوار کی انتخابی مہم کا عوام کی جانب سے زبردست تائید کو دیکھتے ہوئے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا کے اسمبلی انتخابات سے قبل ضرب مخالف کی آواز کو دبانے کے لیے ای ڈی کو استعمال کیا جارہا ہے۔ ہم ای ڈی کے دفتر کے روبرو احتجاج کرتے ہیں اور اس کارروائی کی مذمت بھی کرتے ہیں۔ این سی پی کے 5 کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا اور انہیں پولیس چوکی لے جایا گیا۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ احتجاج کرنے والے جب یہاں سے جانے کے لیے تیار نہیں تھے اس لیے پولیس کو انہیں منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ انہوںنے بتایا کہ اس کیس کو ممبئی پولیس کی ایف آئی آر کی اساس پر درج کیا گیا ہے جس میں مہاراشٹرا کوآپریٹیو بینک کے سابق صدرنشین، سابق ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار اور بینک کے سابق 70 ملازمین کے نام شامل تھے۔ اس کیس کو 21 اکٹوبر کو ہونے والے مہاراشٹرا اسمبلی کے انتخابات سے قبل اٹھایا گیا ہے۔شرد پوار نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ای ڈی دفتر کے روبرو احتجاج کرنے والے گرفتار کارکنوں سے ملاقات کی اور کہا کہ ان کے خیال میں بابا صاحب امبیڈکر کا دستور ہند احتجاج کا حق ہر ہندوستانی شہری کو عطا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا واقعہ این سی پی کی اسمبلی انتخابی مہم کا اہم موضوع ہوگا۔