واشنگٹن: امریکہ نے ایک طرف تو ایرانی صدر کی موت پر سرکاری طورپر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اس حادثے کے لیے خود تہران کو ذمہ دار ٹھہرایا۔میتھیو ملر نے کہا کہ”خراب موسم کے باوجود 45 سال پرانا ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا ذمہ دار ایران ہے۔ ہیلی کاپٹر میں نو افراد سوار تھے، جن میں صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان، مشرقی آذربائیجان کے گورنر مالک رحمتی، تبریز کے امام سید محمد الہاشم، صدر کے سکیورٹی یونٹ کے کمانڈر سردار سید مہدی موسوی، باڈی گارڈ اور ہیلی کاپٹر کا عملہ موجود تھے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے دعویٰ کیا کہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد ایران نے امریکہ سے مدد کی درخواست کی تھی لیکن لاجسٹک وجوہات کے باعث ایران کی درخواست قبول نہیں کرسکے۔میتھیو ملر نے یہ نہیں بتایا کہ ایران کی جانب سے کس طرح کی مدد کرنے کو کہا گیا ہے، کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان اسلامی انقلاب کے بعد سے تعلقات کشیدہ ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی روابط نہیں ہیں اور امریکہ نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے اس کے خلاف کئی اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔میتھیو ملر نے صحافیوں سے کہا کہ میں کسی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، لیکن یہ بتانا چاہوں گا کہ ایرانی حکومت نے اس معاملے پر ہمیں مدد کے لیے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بڑے پیمانے پر لاجسٹک سے منسلک وجوہات کی بنا پر ہم کچھ کرنے سے قاصر تھے۔ قبل ازیں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا تھا کہ”امریکہ کا اس حادثے میں کوئی کردار نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا تھا کہ “میں ایسی کوئی قیاس آرائی نہیں کرسکتا کہ اس حادثے کا سبب کیا تھا۔