ایران مخالف نئے امریکی اقدام، موجودہ جنگ بندی کا تسلسل غیر یقینی

   

تہران ۔ 20 اپریل (ایجنسیز) پیر کے روز اس بات پر تشویش بڑھ گئی کہ آیا امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی برقرار رہ سکے گی؟ امریکہ نے ایک مال بردار ایرانی بحری جہاز قبضے میں لے لیا ہے جبکہ تہران نے جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ خطہ میں زیادہ پائیدار امن قائم کرنے کی کوششیں غیر یقینی دکھائی دے رہی ہیں، کیونکہ ایران نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت نہیں کرے گا، جسے امریکہ جنگ بندی کے منگل کے روز ختم ہونے سے پہلے شروع کرنا چاہتا تھا۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر اپنی پابندی پہلے ہٹائی اور پھر دوبارہ نافذ کر دی ہے۔ عام طور پر اس آبنائے سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برآمدی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس دوران کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب امریکی فوج نے کہا کہ اس نے اتوار کو ایران کی بندر عباس نامی بندرگاہ کی طرف جانے والے اور ایرانی پرچم والے ایک کارگو شپ پر فائرنگ کی، جس سے اس کے انجن ناکارہ ہو گئے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ 6 گھنٹے کی کارروائی کے بعد امریکی میرینز ہیلی کاپٹروں سے رسیوں کے ذریعہ جہاز پر اترے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اب اس جہاز پر ہمارا مکمل قبضہ ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس میں کیا موجود ہے۔ ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ جہاز چین سے سفر کر کے آ رہا تھا۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایک فوجی ترجمان نے کہا کہ ہم خبردار کرتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج جلد ہی امریکی فوج کی اس مسلح بحری قذاقی کا جواب دیں گی اور جوابی کارروائی کریں گی۔ ترجمان نے امریکہ پر الزام لگایا کہ اس نے آٹھ اپریل سے نافذ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس جنگ بندی کے ممکنہ طور پر ناکام ہو جانے اور خلیج فارس میں بھری تجارتی آمد و رفت انتہائی محدود ہو جانے کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہو گیا جبکہ اسٹاک مارکیٹوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔E/F