مغرب میںنئے پروپیگنڈہ کیلئے چارہ کے مترادف
تہران: وسطی ایرانی شہر قم میں ایک 11 سالہ لڑکی کی زہر کھانے کی وجہ سے موت کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایک افواہ بہت تیز رفتاری سے پھیلی اور دنیا بھر میں سرخیوں میں آگئی۔ میڈیاکی ایک رپورٹ، جسے بہت سے دوسرے مغربی ذرائع ابلاغ نے دوبارہ پیش کیا ہے اس میں گمنام ایرانی کارکنوں کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا گیا ہے کہ فاطمہ رضائی کی اسکول میں زہر کھانے کے بعد موت ہوئی۔نیویارک میں قائم سنٹر فار ہیومن رائٹس ان ایران نے دعویٰ کیا کہ لڑکی کی موت اس وقت ہوئی جب سینکڑوں طالب علموں کو جان بوجھ کر زہر دینے کا نشانہ بنایا گیا اور اسے دہشت گردی کا عمل قرار دیا۔ایک اطالوی نیوز پورٹل نے اٹلی میں ایرانی یوتھ ایسوسی ایشن کے نمائندے کے حوالے سے کہا ہے کہ رضائی وحشیانہ حکومت کی زہریلی گولیوں کے نتیجے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ مقتولہ کے والد ابوالقاسم رضائی نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ان کی بیٹی کی بے وقت موت کا سلسلہ وار زہر دینے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔میری بیٹی کو درد اور انفیکشن اس کی موت سے ایک ہفتہ پہلے شروع ہوا تھا۔ درد سے پہلے بھی، وہ تقریباً تین ہفتوں تک اسکول نہیں گئی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ابھی تک سلسلہ وار زہر سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے اور اس کی وجہ ابھی تک پر اسرار ہے، متعلقہ ادارے اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔لیکن اس نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف اپنی کثیر جہتی ہائبرڈ جنگ کے تسلسل میں، مغرب میں ایران مخالف پروپیگنڈہ ملوں کو ملک میں افراتفری پھیلانے کے لیے پہلے ہی چارہ فراہم کر دیا ہے۔گزشتہ برس نومبر میں قم سے شروع ہونے والی بیماری کی پراسرار لہر حالیہ ہفتوں میں خطرناک حد تک دارالحکومت تہران سمیت دیگر شہروں تک پھیل چکی ہے۔
ایرانی صدر رئیسی نے اس مسئلہ کو ایران کے خلاف “ہائبرڈ جنگ” کا حصہ قرار دیا جس کا مقصد “بدامنی اور مسائل پیدا کرنا” ہے۔ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے بھی ٹویٹر پر مغربی ممالک کی اسلامی جمہوریہ میں سلسلہ وار زہر دینے پر مگرمچھ کے آنسو بہانے کی مذمت کی۔ان کے تبصرے اس وقت سامنے آئے جب امریکہ اور جرمنی نے ایک بار پھر ایران کے اندرونی معاملات کے حوالے سے “مداخلت پسند” ریمارکس دیے، جس سے تہران کی ناراضگی بہت زیادہ تھی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور جرمنی نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف بلا روک ٹوک صلیبی جنگ کی قیادت کی جو بالآخر ناکام ہو گئی۔ زہر اب ایک نیا باب بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران کے وزیر داخلہ نے کہا کہ تحقیقات کے دوران مشتبہ نمونے دریافت ہوئے اور ملک کی اعلیٰ لیبارٹریوں میں ان کی جانچ کی جا رہی ہے۔ان زہروں کے پھیلنے کے بعد سے، واحدی نے زور دے کر کہا، ایران کے خلاف ہائبرڈ جنگ کے مرتکب افراد نے معاشرے میں ذہنی۔نفسیاتی آلودگی کو ہوا دینے اور اسکولوں کو بند کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ طلباء کی صحت ایرانی حکومت کی اولین ترجیح تھی اور رہے گی ۔