تہران ۔ 30 اکٹوبر (ایجنسیز) ایران کے ایک رکن پارلیمنٹ محمود نبویان نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے مطالبہ کیا ہیکہ وہ ملک میں ایٹم بم تیار کرنے کی اجازت دیں۔ ان کا کہنا ہیکہ انہوں نے یہ تجویز شہر قم میں ہونے والے ایک اجتماع کے دوران پیش کی، جہاں موجود افراد نے اس کی حمایت میں ردعمل دیا۔ محمود نبویان نے ایکس پر ایک بیان میں بتایا کہ انہوں نے اجتماع کے دوران ایران کی نیوکلیئر پالیسی پر نظرثانی اور ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی اجازت دینے کا معاملہ اٹھایا تھا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے متعدد ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے ملک کے دیرینہ مؤقف پر نظرثانی کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔ ایران طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کا نیوکلیئر پروگرام پْرامن مقاصد کیلئے ہے اور وہ نیوکلیئر ہتھیار تیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری کے خلاف مذہبی فتویٰ جاری کیا تھا، جسے تہران اپنے نیوکلیئر مؤقف کی بنیاد قرار دیتا رہا ہے۔ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ستمبر میں الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اب بھی اس مذہبی فیصلے کا پابند ہے اور اس کی نیوکلیئر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
تاہم انہوں نے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہم نہیں جانتے کہ آگے کیا ہوگا۔‘‘محمود نبویان کا تازہ مطالبہ ایران کے اندر نیوکلیئر ہتھیاروں کے معاملے پر جاری بحث اور پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کے مطالبات کو نمایاں کرتا ہے۔ تاہم ان کا بیان ایران کی جانب سے ایٹم بم بنانے کا باضابطہ فیصلہ یا اعلان نہیں ہے۔