تہران حکومت سے نمٹنے کیلئے صدر بائیڈن کے پاس کئی متبادل زیرغور، وائیٹ ہاؤس کا بیان
واشنگٹن : وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ ایران کے ساتھ سفارت کاری فی الحال کام نہیں کر رہی ہے۔وائٹ ہاؤس نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’اگر ایران کے ساتھ سفارت کاری ناکام ہوتی ہے تو ہم خطے میں اپنی فوجی تیاری کو یقینی بنانے کیلیے تیار ہیں۔‘‘امریکہ کی طرف سے یہ بیان ایرانی جوہری معاہدے کی بحالی کا معاملہ غیر واضح ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے گذشتہ ہفتے ماسکو میں کہا تھا کہ ان کے ملک کو 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے واشنگٹن سے مضبوط ضمانتوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی سیاسی بنیادوں پر ایران کی نیوکلیئرتنصیبات کی معائنہ کاری روکنا ہوگی۔دو ہفتے قبل قومی سلامتی کونسل کے کمیونیکیشن کوآرڈینیٹر جان کربی نے تصدیق کی تھی کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے وزارتوں سے کہا تھا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے آپشن تیار کریں۔اس سلسلے میں امریکی حکومت کے اندر اور باہر کے ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو تقریباً متفقہ طور پر اس بات کی تصدیق کی کہ جو بائیڈن کے پاس تہران سے نمٹنے کے لیے بہت سے آپشنز موجود ہیں اور ان کا اہتمام اس طرح کیا گیا ہے: پہلے سفارتی عمل اور مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے گا، دوسرا سخت پابندیاں عائد کرنے کا سہارا لینا جو تہران کو جوہری معاہدے میں باہمی واپسی کے عزم کو پیش کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ تیسرا امریکی انٹیلی جنس کے کام کوآگیبڑھانا، برطانیہ اور اسرائیل جیسے اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ کام کرنا اور چوتھا ایرانی تنصیبات پر بمباری کرنے کے فوجی منصوبے تیار کرنا ہے۔اس کے علاوہ قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے زور دے کر کہا کہ امریکی انتظامیہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پرعزم ہے۔