ایس آئی آر اور ای وی ایم پر بحث کے لیے پارلیمنٹ آئیں: سیتارمن کا راہول کو مشورہ

,

   

سیتارمن نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش گاہ پر اس ہفتے کے اوائل میں منعقدہ ‘فرضی پارلیمنٹ’ پر بھی راہول گاندھی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

نئی دہلی: مرکزی وزیر نرملا سیتارمن نے منگل، 3 نومبر کو کانگریس رہنما راہول گاندھی کو چیلنج دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر “بیانات جاری کرنے” کے بجائے، انتخابی فہرستوں کی ‘خصوصی تفصیلی نظرثانی’ اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر بحث کے لیے پارلیمنٹ آئیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں، وزیر خزانہ نے نشاندہی کی کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ حکومت ایس آئی آر اور ای وی ایم پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کو تیار ہے۔

سیتارمن کا یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب راہول گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اس بیان پر کھلی بحث کا چیلنج دیا کہ “اپوزیشن ملک دشمن ہے”۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ وزیر اعظم نے ان کے خلاف “غیر ملکی روابط” کے الزام پر ہتکِ عزت کا مقدمہ کیوں دائر نہیں کیا۔

انہوں نے کہا، “راہول جی، آپ وزیر اعظم سے کہتے ہیں کہ بحث کے لیے کوئی جگہ منتخب کریں۔ ایک جگہ تو پہلے سے موجود ہے: پارلیمنٹ، جہاں آپ خود ‘لیڈر آف اپوزیشن’ ہیں۔ پارلیمنٹ میں بحث کے لیے وہی جوش و خروش کیوں نہیں دکھاتے جو آپ سوشل میڈیا پر چیلنج دیتے وقت دکھاتے ہیں؟”

“ابھی کل ہی، وزیر داخلہ امت شاہ نے ایس آئی آر اور ای وی ایم پر بحث کے لیے خصوصی اجلاس بلانے کی پیشکش کی ہے۔”

وزیر خزانہ نے مزید کہا، “آپ کہتے ہیں ‘ڈرو مت’۔ تو پھر حقائق سامنے لائیں، جانچ پڑتال کا سامنا کریں اور جوابات سننے کے لیے وہاں موجود رہیں۔ ایوان کے اندر، بحث کے ان معیارات کو برقرار رکھیں جن کا مطالبہ آپ دوسروں سے کرتے ہیں۔”

سیتارمن نے کہا کہ ایسے کئی مواقع آئے ہیں جب راہول گاندھی اور ان کی پارٹی نے پارلیمنٹ سے واک آؤٹ (بائیکاٹ) کیا، حالانکہ اس وقت حکومت ان کے الزامات کا جواب دے رہی ہوتی تھی۔

“آپ بحث کے لیے اتنے مشتاق ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں جب آپ دوسرے فریق کا موقف سننے کے لیے وہاں رکتے ہی نہیں؟”

“بات صرف واک آؤٹ تک محدود نہیں ہے۔ آپ اور ‘انڈیا’ اتحاد نے بار بار کارروائی میں خلل ڈالا ہے، جس کی وجہ سے پارلیمنٹ کے پورے اجلاس ضائع ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ بحث کرنے کے اتنے ہی خواہشمند ہیں، تو پھر پارلیمنٹ کو کام کیوں کرنے دیتے؟” انہوں نے لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف سے یہ سوال کیا۔

سیتارمن نے اس ہفتے کے اوائل میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش گاہ پر گاندھی کی جانب سے منعقدہ ’فرضی پارلیمنٹ‘ پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا، “سچ پوچھیں تو، یہ ’فرضی پارلیمنٹ‘ سے زیادہ ’پارلیمنٹ کا مذاق‘ اڑانے جیسا تھا۔”

انہوں نے مزید کہا، “آپ کو اس مشق کے لیے وقت اور جوش تو مل گیا؛ یقیناً، اصل پارلیمنٹ بھی کم از کم اتنی ہی توجہ کی حقدار ہے۔”

سیتارمن نے کہا کہ گاندھی جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے بارے میں تو بہت باتیں کرتے ہیں، لیکن یہ احترام ان کے اس رویے میں بھی نظر آنا چاہیے جو وہ آئینی اداروں کے ساتھ اختیار کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، “جہاں تک ان مسائل کا تعلق ہے جنہیں آپ غیر سنجیدگی سے اٹھاتے ہیں، تو ان کے ثبوت پیش کریں اور ٹھوس الزامات لگائیں۔ محض الزامات کی ایک لمبی فہرست تیار کر دینے سے آپ کا موقف مضبوط نہیں ہو جاتا۔ قائدِ حزبِ اختلاف کی حیثیت سے، آپ سے کچھ سنجیدگی اور ذمہ داری کے مظاہرے کی توقع کی جاتی ہے۔”

مرکزی وزیر پیوش گوئل نے بھی گاندھی پر طنز کیا۔

وزیرِ تجارت و صنعت نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا، “جناب راہل گاندھی: 2014 سے خود ہی اپنے آپ سے بحث کر رہے ہیں! آپ کا تو کوئی ثانی ہی نہیں ہے۔”