ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی اسٹیڈی سرکلس کے طرز پر اقلیتی اسٹیڈی سرکلس کے قیام پر زور

   

اقلیتی نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم ، تربیت اور ملازمتوں کے لیے مسابقتی امتحانات کی تیاری کی ضرورت : جناب عامر علی خاں کا کونسل میں خطاب
حیدرآباد۔ 27۔مارچ(سیاست نیوز) ۔تلنگانہ کے تمام اضلاع میں ایس سی ‘ ایس ٹی اور بی سی اسٹڈی سرکلس کے طرز پر اقلیتی اسٹڈی سرکلس کے قیام کے اقدامات کئے جائیں تاکہ ریاست بھر کے تمام اضلاع میں رہنے والے اقلیتی نوجوان اسٹڈی سرکل کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے اپنے مستقبل کو بہتر بناسکیں۔ رکن قانون ساز کونسل جناب عامر علی خان نے آج تلنگانہ قانون ساز کونسل میں خصوصی توجہ دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ریاست میں اقلیتی نوجوانوں کو ایس سی ‘ ایس ٹی اور بی سی طبقات کے نوجوانوں کے مساوی سہولتوں کی فراہمی عمل میں لائے جانے کی ضرورت ہے تاکہ اقلیتی نوجوانوں کو بھی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے تربیت اور ملازمتوں کے لئے تحریر کئے جانے والے مسابقتی امتحانات کی تربیت فراہم کی جاسکے۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں میناریٹی اسٹڈی سرکل صرف شہر حیدرآباد میں چلایا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں اضلاع سے تعلق رکھنے والے اقلیتی نوجوانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے اقلیتی نوجوانوں میں صلاحیتیں موجود ہیں لیکن ان کی مناسب رہبری نہیں ہوپارہی ہے۔رکن قانون ساز کونسل نے ایوان میں خصوصی توجہ دہانی کرواتے ہوئے صدرنشین تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر جی سکھیندر ریڈی کے توسط سے ریاستی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اضلاع میں بھی ان مراکز کے قیام کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنائیں ۔ تلنگانہ میناریٹی اسٹڈی سرکل حیدرآباد میں حکومت کی جانب سے اقلیتی طلبہ کو مسابقتی امتحانات کی تربیت کے علاوہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے مختلف کورسس میں داخلوں کے لئے منعقد ہونے والے اہلیتی امتحانات کے لئے تربیت فراہمی جاتی ہے اور شہر حیدرآباد میں موجود اس مرکز سے استفادہ حاصل کرنے والوں میں اضلاع کے طلبہ بھی شامل ہیں لیکن طالبات کی بڑی تعداد جو ان کورسس میں تربیت حاصل کرنا چاہتی ہے اپنے ضلع یا علاقہ میں یہ سہولت نہ ہونے کے سبب تربیت کے حصول سے محروم رہتی ہے۔ جناب عامر علی خان نے ایوان میں اپنے خطاب کے دوران تلنگانہ ریاستی اسٹڈی سرکل برائے اقلیتی طلبہ کے علاوہ عنبر پیٹ مسلخ کو عصری بنانے اور اس کے ٹنڈر کے متعلق بھی ریاستی حکومت کو متوجہ کرواتے ہوئے کہا کہ اس مسلخ کی سرگرمیوں کے متعلق تفصیلات سے واقف کروایا جائے تاکہ عوام کو اس مسلخ کو ماڈرنائز کرنے فائدے پہنچائے جاسکیں۔3