ایل نینو کے اثرات، تلنگانہ کے کئی اضلاع میں پینے کے پانی کی شدید قلت

   

سنگاریڈی اور کریم نگر میں پانی کے لیے عوام پریشان، ٹینکروں کے انتظار میں لمبی قطاریں
حیدرآباد، 31 اکتوبر (سیاست نیوز): تلنگانہ میں ایل نینو کے اثرات اب ریاست کے ہر ضلع میں نظر آنے لگے ہیں۔ ایک طرف آبپاشی کے مسائل اور برقی کٹوتی سے کسان پریشان ہیں تو دوسری جانب پیشگی منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث ریاست کے کئی اضلاع اور شہری علاقوں میں عوام کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پانی کی عدم دستیابی کے باعث خواتین، بچوں اور ضعیف افراد کو بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ کئی مقامات پر عوام پینے کے پانی کے حصول کیلئے متبادل ذرائع اختیار کرنے اور دور دراز علاقوں سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ روزمرہ ضروریات کیلئے پانی جمع کرنا بھی شہریوں کیلئے ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔سنگاریڈی ٹاؤن کی ایک کالونی میں پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے ٹینکر پہنچائے جا رہے ہیں۔ خواتین اور مرد پانی حاصل کرنے کیلئے گھڑے، بالٹیاں اور ڈرم لے کر قطاروں میں انتظار کر رہے ہیں۔ اس صورتحال سے متعلق ویڈیو انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہے۔ سنگاریڈی ہیڈکوارٹر کی کئی کالونیوں میں پانی کی قلت برقرار ہے اور مقامی افراد پینے کے پانی یا ٹینکر کی آمد کے منتظر ہیں۔ بعض مقامات پر پانی حاصل کرنے کیلئے عوام کو طویل وقت تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔دوسری جانب کریم نگر میں بھی پینے کے پانی کے مسائل شروع ہوگئے ہیں۔ وہاں پانی کے ٹینکر پہنچائے جا رہے ہیں اور عوام بالٹیوں اور ڈرموں کے ذریعہ پانی حاصل کر رہے ہیں۔ لوگ قطاروں میں کھڑے ہوکر پانی جمع کر رہے ہیں، جبکہ بعض افراد رکشوں پر ڈرم اور بالٹیاں رکھ کر پانی لے جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ 2/a/b

پانی کی قلت کے باعث عوام کو روزمرہ زندگی میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ سنگاریڈی اور کریم نگر کے یہ مناظر ریاست میں پینے کے پانی کے بحران کی سنگینی اور عوام کی مشکلات کو ظاہر کررہے ہیں۔ 2