رہنمایانہ وصول تیار کئے جارہے ہیں
رواں تعلیمی سال ودیاوالینٹرس کا تقرر نہ کرنے کا امکان
حیدرآباد ۔ 6 نومبر (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے ارکان اسمبلی کو اپنے حلقوں کی ترقی کیلئے مختص کئے جانے والے فنڈز میں 25 فیصد فنڈز سرکاری اسکولس کی ترقی اور اسکولس میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر خرچ کرنے کے احکامات جاری کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ واضح رہیکہ ہر سال ارکان اسمبلی کو اپنے اپنے حلقوں کی ترقی کیلئے 5 کروڑ روپئے مختص کئے جاتے ہیں ان میں سے 25 فیصد فنڈز سرکاری اسکولس کی ترقی پر خرچ کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں گے۔ اس کیلئے خصوصی رہنمایانہ وصول تیار کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ حکومت نے 2 سال کے دوران سرکاری اسکولس کیلئے 4000 کروڑ روپئے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت سرکاری اسکولس کو ترقی دینے کیلئے تلنگانہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ تلنگانہ کابینہ اجلاس میں ہی اس تجویز کو منظوری دی گئی ہے۔ اس سال سے خانگی اسکولس کے تقریباً ڈھائی لاکھ طلبہ ریاست بھر کے سرکاری اسکولس میں داخلہ لیا ہے۔ نئے اضلاع کے تحت ٹیچرس کو مختص کرنے کے بعد ہی ٹیچرس کے ریشلائزیشن پروگرام پر عمل آوری کی جائے گی اور ساتھ ہی تبادلوں کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔ سرکاری اسکولس میں ڈھائی لاکھ طلبہ کے داخلوں کے بعد اسکولس میں ٹیچرس کی قلت محسوس کی جارہی ہے۔ اس کے باوجود ودیاوالینٹرس کی خدمات سے استفادہ کرنے کے معاملے میں کوئی فیصلہ نہ ہونے پر تنقیدوں کا حکومت کو سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اگر سرکاری اسکولس کی یہی صورتحال رہی تو طلبہ کے دوبارہ خانگی اسکولس لوٹ جانے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ ن